سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا ہے کہ جو شخص عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ لیتا ہے، آئین کی پاسداری اس پر لازم ہو جاتی ہے۔

وہ کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا کہنا تھا کہ 72 سال پہلے ہم نے آزادی حاصل کی اس وقت نہ کوئی جنگ لڑی، نہ کوئی عسکری قوت نے ہمیں آزاد ملک دیا۔  یہ ایک سوچ اور نظریہ تھا جس نے دوسروں کو قائل کیا اور ایک ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ پاکستان کا قیام ایک معجزہ ہی سمجھیں، اس معجزے کو برقرار، محفوظ رکھنے کے لیے نے ایک طریقہ کار مہیا کردیا، اس طریقہ کار کو ہم آئین کہتے ہیں، جس کا پورا نام آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، آئین میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ عوام نے یہ آزاد ملک حاصل کیا۔

قاضی فائز عیسٰی کا کہنا تھا کہ قائداعظم نے واضح الفاط میں کہا تھا کہ پاکستان ایک جہموری ملک ہے اور جمہوریت کو قائم رکھنا ایک فریضہ ہے اگر ہم جمہوری اصولوں پر قائم رہیں گے تو ہماری قومی سالمیت برقرار رہ سکتی ہے۔ اس تمہید میں آزاد عدلیہ کا ایک بھی بالخصوص ذکر ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ آئین کے شروع ہی میں بنیادی حقوق کا ذکر ہے، آئین کی شق 199 اور شق (3)184 سے عدلیہ بنیادی حقوق پر عمل درآمد یقینی بناتی ہے، اگر کوئی شخص، ادارہ بنیادی حقوق سے تجاوز کرے توعدلیہ کے پاس اختیار ہے کہ وہ اسے روکے، تاریخ عکاسی کرتی ہے کہ ادارے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کریں تو لوگوں کے بنیادی حقوق پامال ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد پہلے جنرل ایوب پھر یحییٰ خان آئے، جمہوری طرز عمل کو نظر انداز کیا گیا اور نتیجتاً ہم آدھے پاکستان سے محروم ہوگئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب جمہوریت کمزور ہوتی ہے، ایک شخص کی آواز عوام کی آواز کو دبا دیتی ہے تو دشمن فائدہ اٹھاتا ہے، عدلیہ کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز نہ کرے، ادارے اور ملک تب مضبوط ہوتے ہیں جب اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں، کسی اور ادارے پر انگلی اٹھانے سے پہلے میں اپنے ادارے ہی کی بات کروں گا۔

قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وفاق اور چاروں صوبوں نے موبائل فون پر ٹیکس لگائے، نامعلوم تحریری شکایت پر سپریم کورٹ نے شق 184 (3) تحت ٹیکسز معطل کردیے، موبائل ٹیکسوں کے خلاف حکم امتناعی کا جواز نہیں تھا، کیوں کہ ٹیکس بنیادی حقوق میں شامل نہیں، جس مدت میں سپریم کورٹ نے موبائل فون ٹیکسز معطل رکھے ملک کو 100 ارب کا نقصان ہوا، یہ 100 ارب روپے اب اکٹھے نہیں کیے جا سکتے، اعلیٰ عدالتوں کا کام ہے کہ وہ جو حکم جاری کررہی ہے وہ آئین اور قانون کے مطابق ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ پانے والوں پر آئین کی پاسداری لازم ہے، وہ اس کا حلف اٹھاتے ہیں، مجھ سمیت صدر، وزیراعظم اور افواج پاکستان کے ہر افسر پر آئین کی پاسداری کرنا لازم ہے۔