پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے سید خورشید شاہ کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب بھی کشمیر پر قومی اتفاق رائے کا موقع آتا ہے ایسا واقعہ رونما ہو جاتا ہے۔ خورشید شاہ کو بھی کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لئے گرفتار کیا گیا ہے۔

وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی کورکمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ اجلاس میں حکومت مخالف احتجاج بارے تفصیلی مشاورت کی گئی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل سمیت کشمیرکی پالیسی پر مکمل ناکام ہو چکی ہے، اب حکومت کی نالائقی کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔

 بلاول بھٹو زرداری نے ‏خورشید شاہ کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نیب پولیٹیکل انجیرنگ کے ‏لیے بنایا گیا، مریم نواز اور فریال تالپور کو گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان ایک ناجائز وزیراعظم ہے جس نے جمہوریت کا جنازہ نکال دیا ہے، وہ کیسے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز بنے گا، کشمیر پر حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی دھرنوں پر یقین نہیں رکھتی، مولانا فضل الرحمان سے کچھ معاملات پر مشاورت نہیں ہو سکی لیکن وہ انکے دھرنے کی اخلاقی حمایت کرتے رہیں گے۔

جب ان سے پیپلز پارٹی کے احتجاج کے لائحہ عمل بارے پوچھا گیا تو بلاول بھٹو نے کہا کہ انہوں نے احتجاج کا اپنا لائحہ عمل بنایا ہے، مہنگائی سمیر عوامی ایشوز پر وہ بھی احتجاج کریں گے اور حکومت کی نالائقی کو اب بالکل بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔