انٹرنیشنلپاکستانتازہ ترینسائنس اینڈ ٹیکنالوجیصفحہ اول

گوگل اپنے صارفین کی کون کون سی معلومات محفوظ کرتا ہے

آج کل یہ معاملہ زیر بحث ہے کہ سمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا ڈیٹا محفوظ نہیں ہے ۔ فیس بُک ہو یا گوگل اور یا اور دیگر موبائل ایپس، یہ سب user کی انفارمیشن پر نظر رکھی ہوئی ہیں۔

حال ہی میں ایک  سرچ انجن DuckDuckGo نے ٹویٹر پر ڈیٹا شئیر کرتے ہوئے بتایا کہ گوگل اور گوگل ایپ صارفین کی کون کون سی معلومات اپنے پاس محفوظ کرتا ہے ۔

ڈک ڈک گو کے مطابق گوگل صارف کی لوکیشن، browsing history ، صارف اور اسکی ڈیوائس کی معلومات  حاصل کر رہا ہوتا ہے۔

یعنی گوگل استعمال کرنے والا کہاں جا رہا ہے، کتنا وقت کہاں قیام کرتا ہے  یہ سب معلومات بغیر کسی ایپ کے اوپن کیے بغیر محفوظ ہو رہی ہوتی ہے۔

 صارف گوگل کے ذریعے کا کچھ سرچ کر رہا ہے یہ بھی معلومات بھی  گوگل کے پاس ہوتی ہے  ۔

سب سے اہم چیز یہ ہے کہ گوگل صارف کی مالی معاملات کی تفصیل بھی حاصل کر رہا ہوتا ہے اسکے علاوہ گوگل کی رسائی صارف کے contact list تک بھی ہوتی ہے اور صارف کے audio content پر بھی۔

یہاں  دلچسپ بات یہ ہے کہ Incognitoمیں سرچ ہونی والے ڈیٹا بھی  گوگل کی آنکھوں سے اوجھل نہیں رہتا۔

امریکا میں تین صارفین نے گوگل کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ گوگل انہیں اُس وقت بھی خفیہ طور پر ٹریک کرتا ہے اور ڈیٹا جمع کرتا ہے جب وہ Incognito آپشن یعنی پوشیدہ رک کر سرچنگ کا آپشن استعمال کر رہے ہوتے ہیں یا صارفین کے اپنے طور پر پرائیویسی سیٹ کرنے کے باوجود گوگل ٹریکنگ جاری رکھتا ہے۔

صارفین نے اپنی شکایت میں الزام عائد کیا تھا کہ گوگل کا پرائیوٹ ڈیٹا ٹریکنگ بزنس ہے جو صارفین کی جانب سے پرائیویسی سیٹنگ سخت کرنے یا کروم میں پوشیدگی کا طریقہ استعمال کرنے کے باوجود نجی معلومات اور دیگر براؤزرز تک رسائی حاصل کرکے ڈیٹا جمع کرتا رہتا ہے۔

امریکی ریاست کیلی فورنیا کے ضلعی جج نے اس مقدمے کے فیصلے میں لکھا کہ گوگل نے صارفین کو پیشگی مطلع نہیں کیا تھا کہ وہ انگوگنیٹو موڈ میں بھی صارفین کا مبینہ ڈیٹا اکٹھا کرنے میں ملوث ہے جس پر گوگل کو سخت قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جو کہ 5 بلین ڈالر تک کے ہرجانے کا بھی ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب گوگل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ Incognitoکا مطلب پوشیدہ نہیں ہے اور موڈ کے استعمال کے ساتھ بھی صارف کی سرگرمیاں اُن ویب سائٹس پر بھی نظر آسکتی ہے جو وہ دیکھتے ہیں ۔

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close