نوبل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر اپنے بیان میں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی رہنما کشمیر میں امن کے لئے کام کریں، کشمیریوں کی آواز سنیں اور بچوں کا سکول جانا ممکن بنائیں۔

ملالہ یوسفزئی کی ٹویٹ کا عکس

ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کا رابطہ دنیا بھر سے منقطع ہے اور وہ اپنی آواز باہر کی دنیا میں پہنچانے سے قاصر ہیں، کشمیری لڑکیوں کے مطابق وہاں پر مکمل خاموشی ہے۔ ملالہ کے مطابق کشمیری لڑکیوں کا کہنا ہے کہ انکے پاس کوئی ذریعہ نہیں کہ وہ جان سکیں انکے ساتھ کیا ہو رہا ہے، ہم اپنے گھروں کے باہر صرف بھارتی فوجیوں کے بوٹوں کی آواز سنتے ہیں جو بہتر ڈراونی ہوتی ہے۔

ملالہ نے کہا کہ میری کشمیر میں رہنے اور کام کرنے والے صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور طلبا سے بات ہوئی، کشمیر میں مواصلاتی نظام کے بلیک آؤٹ کی وجہ سے اس رابطے میں بہت مشکل ہوئی۔

کشمیر میں بچوں، جوانوں سمیت ہزاروں افراد کی گرفتاریوں پرشدید تشویش ہے، 40 روز سے بچے اسکول نہیں جاسکے، لڑکیاں گھر سے باہر نکلتے ہوئے ڈرتی ہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی رہنماوں کو چاہئے کہ وہ کشمیر میں امن کے لئے کام کریں اور بچوں کا سکول جانا ممکن بنائیں۔