چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ آج ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں حقائق کو مصنوعی طریقے سے تخلیق کیا جا رہا ہے اور آئندہ آنے والا دور انہی مصنوعی طور پر تخلیق کردہ واقعات کو بطور تاریخ یاد دیکھے گا۔

وہ لاہور میں ایک کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کر رہے تھے۔  چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آج کل وکلا برادری اپنا کیس ذہن اور زبان سے کم جبکہ لاتوں اور گھونسوں سے زیادہ پیش کرتی ہے ورنہ یہی وکلا تھے اور یہی ججز تھے  جنہوں نے ماڈل کورٹس میں چار ماہ کے اندر 13 ہزار کیسز نمٹائے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آج ہم کیسز کی کوالٹی پر نہیں بلکہ نمبرز پر یقین رکھتے ہیں اور 99 فیصد لوگوں نے تو ہمارے فیصلے پڑھے ہی نہیں ہوتے لیکن وہ اس پر اپنے خیالات تخلیق کر رہے ہوتے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم کبھی بھی امید نہیں چھوڑ سکتے، ہمیں حقیقت پسند بننا ہے اور اپنی آنکھیں بند نہیں کرنی کیون کہ یہی ہمارا ملک ہمارا سب کچھ ہے اور ہمیں یہی اپنی زندگی بسر کرنی ہے۔