سپریم کورٹ نے چار قتل کے ملزم محمد سلیم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر ملزمان قتل کرنے کی غرض سے آئے تھے تو آتے ہی فائرنگ کر دیتے، ایف آئی آر سے لگتا ہے وقوعے سے پہلے تلخ کلامی ہوئی، جب اصل وجہ پتا نہ چلے تو احتیاط کے تقاضے شروع ہو جاتے ہیں یہاں زندگی اور موت کا سوال ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ویڈیو لنک کے ذریعے لاہور رجسٹری سے سمندری میں چار افراد کے قتل پر سزائے موت کے خلاف ملزم محمد سلیم کی اپیل پر سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر سے لگتا ہے وقعے سے پہلے تلخ کلامی ہوئی، اگر ملزمان قتل کرنے کی غرض سے آئے تھے تو آتے ہی فائرنگ کر دیتے۔

درخواست گزار نے ایف آئی آر میں لکھا ہے کہ میرے لڑکوں نے بھی برا بھلا کہا بُرا بھلا کہنے کی نوعیت کیا تھی کچھ معلوم نہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جب اصل وجہ پتا نہ چلے تو پھر احتیاط کے تقاضے شروع ہو جاتے ہیں یہاں زندگی اور موت کا سوال ہے۔

عدالت نے ملزم محمد سلیم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی عدالت نے کہا کہ پراسکیوشن مقدمے کا مقصد ثابت نہیں کر سکی ایف آئی آر میں بھی لکھے گئے شواہد ثابت نہیں ہوئے۔

چیف جسٹس نے دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل سے دلچسپ مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر سمندری کا علاقہ نہ ہوتا تو ہم صرف فوجداری مقدمات سُن رہے ہوتے، سمندری میں سکول کھولیں اور لوگوں کو تعلیم دیں یہ سمندری والے کونسے کام کرتے رہتے ہیں۔