وزیراعظم عمران خان سعودی عرب کے دو روزہ دورے پر ہیں جہاں انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی ہے اور انہیں مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔

وزیراعظم نے سعودی تیل کی تنصیبات پر حملے کی مذمت کی اور اقتصاددی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کر رہے ہیں

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی ذوالفقار بخاری، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر راجہ علی اعجاز بھی ملاقات میں موجود تھے۔

وزیراعظم نے سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے بھی ملاقات کی  جس میں انہوں نے کہا کہ انکے دورے کا مقصد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب سے قبل سعودی عرب کو مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرنا تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ قائداعظم عظیم لیڈر تھے جنہوں نے بہت پہلے بھانپ لیا تھا کہ بھارت میں مسلمانوں کو حقوق ملنا ناممکن ہے، آج مودی  نے قائداعظم کے بھارت بارے خیالات کو سچ کر دکھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پرانے ہیں اور آج نئی سطح پر پہنچ چکے ہیں، کشمیر کا مسئلہ ساری دنیا میں اجاگر ہو چکا ہے، اور ساری دنیا کشمیر پر ہمارے بیانئے کو تسلیم کر چکی ہے۔ اسلامی ممالک کی تنظیم نے بھی کشمیر کے معاملے پر ہماری حمایت کی، اقوام متحدہ میں بھی کشمیر ایشو کو بھرپور طریقے سے اٹھائیں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہیں قرضوں کے بوجھ تلے دبی معیشت ورثے میں ملی ہے، ملک میں اصلاحات لا رہے ہیں اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہماری اولین ترجیح ہے۔ اس کے لئے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے بھی قوانین بنا رہے ہیں تاکہ وہ اپنے ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔