امریکا نے ایران کے مرکزی بینک اور دو مالیاتی اداروں پر پابندیاں عائد کر دیں جنہیں واشنگٹن کی جانب سے تہران پر اب تک کی سب سے بڑی معاشی پابندیاں قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق سعودی تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد سزا کے طور پر امریکہ نے ایران پر یہ معاشی پابندیاں لگائی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کی معیشت تباہی کی جانب جا رہی ہے اور یہ سب ایران کو دہشت گردی سے روکنے کے لیے ہے۔ ہم نے ایران پر تاریخ کی سب سے زیادہ معاشی پابندیاں عائد کر دی ہیں اور ایران کے بہت سے مسائل اس کے خود پیدا کردہ ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران بہت اچھا اور امیر ملک ہو سکتا ہے لیکن وہ ایک مختلف راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ ایران پر حملہ ان کے لیے سب سے آسان چیز تھی جو وہ کر سکتے تھے لیکن انہوں نے ایران پر معاشی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میرے خیال میں ایران پر معاشی پابندیاں کام کریں گی، فوجی ایکشن بھی کام کر سکتا تھا، یہ ایک سخت فتح ہوتی لیکن فتح ہماری ہی ہو گی۔ امریکا کی فوج کو کوئی شکست نہیں دے سکتا بلکہ کوئی ہماری فوج کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتا۔

دوسری جانب امریکا نے سعودی آئل تنصیبات پر حملوں کے بعد مزید فوجی سعودی عرب بھیجے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکا کے سیکرٹری دفاع مارک اسپنسر اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جو ڈنفورڈ نے پینٹاگون میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ہم سعودی آئل نتصیبات پر حملوں کے بعد مزید فوجی اور فضائی دفاعی نظام سعودی عرب بھیجنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔