نمائندہ خصوصی

اسلام آباد۔ کشمیر کی صورت حال کے جائزہ کے لیے سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر اور عرب امارات کے وزیر خارجہ شيخ عبداللہ بن زاید النہیان ایک ساتھ آج اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔اس موقع پر افغانستان میں جاری سیاسی اور مصالحتی عمل پر بھی بات چیت ہوگی۔

دونوں وزرائےخارجہ ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں، دورے کے دوران وہ وزیراعظم عمران خان، وزیرخارجہ شاہ محمود ریشی ۔اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتیں کریں گے

 اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کا اعلامیہ جاری ہوا تو مسئلہ کشمیر ایک بار پھر سے دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا،د رہے کہ وزیراعظم عمران خان سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے چند دن میں 3 مرتبہ ٹیلفونک رابطہ کرچکے ہیں جبکہ گزشتہ دنوں انہوں نے اماراتی ولی عہد شیخ محمد بن زاید سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کرکے کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

  رائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین افغانستان میں امن اور سیاسی استحکام اور مصالحت کے عمل پر بھی بات چیت ہوگی

پاکستان اورامریکہ اسلام آباد میں ہونے والئ ایک ملاقات میں اتفاق کیا تھا کہ سعودئ عرب کو بھی اس مصالحتی عمل میں شامل کیا جائے اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں زلمے خلیل امریکی نمائیندہ خصوصی اور پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ معمود قریشی شامل تھے یہ ملاقات 11 اکتوبر 2018 میں ہوئی۔ سعودی عرب ماضی میں بھی طلبان کے ساتھ مصالحتی عمل میں شامل رہا تھا

 گدزشتہ دنوں قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مسلمان ممالک بھلے کشمیر کے مسئلے پر ابھی ہمارا ساتھ نہیں دے رہے لیکن آئندہ چل کر وہ ہمارے ساتھ ہی ہونگے۔ وزیراعظم کی کہی ہوئی بات سچ ثابت ہوئی اور سعودی و امارتی وزرائے خارجہ آج پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں جہاں وہ مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر بات چیت کریں گے۔