سعودی فرمانروا شام سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ سعودی آئل تنصیبات پر حملے صرف سعودی عرب پر حملے نہیں بلکہ ان میں عالمی معیشت کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

جدہ میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیرصدارت سعودی عرب کی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں تیل کی تنصیبات پر حملوں اور اسکے بعد کی صورتحال پر غور کیا گیا۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ سعودی تنصیبات پر حملے میں دنیا بھر کو ہونے والی تیل کی فراہمی کو نشانہ بنایا گیا، سعودی عرب اپنی تنصیبات پر ہونے والے بزدلانہ حملوں سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

کابینہ اجلاس میں سعودی عرب نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان حملوں کا مقابلہ کرے چاہے یہ کہیں سے بھی اور کسی نے بھی کئے ہوں۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ تیل تنصیبات پر بزدلانہ حملے سعودی عرب کی اہم تنصیبات پر حملوں کے سلسلے کی کڑی ہے، اس حملے نے آزادانہ جہازرانی اور عالمی معاشی نمو کے استحکام کو خطرے سے دوچار کردیا ہے۔

واضح رہے کہ یمن کے معاملے پر سعودی عرب کی سربراہی میں بنائے گئے عرب عسکری اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے سعودی آئل فیلڈز پر حملوں میں ایرانی ہتھیار کے استعمال کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ آئل فیلڈز پر کئے گئے ڈرون حملوں میں ایرانی ساختہ ہتھیار استعمال ہوئے ہیں۔

کرنل ترکی المارکی نے کہا کہ یہ حملے یمن کی سرزمین سے نہیں ہوئے جسکی ذمہ داری حوثی باغیوں نے قبول کی ہے، اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں کہ آخر یہ حملے کہاں سے ہوئے ہیں اور کون سا ملک ان حملوں میں ملوث ہے اسکے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔