سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر صدارتی ریفرنس پر کاروائی روک دی گئی ہے، نئی کاز لسٹ کے مطابق قاضی فائز عیسٰی چار رکنی بینچ کے سربراہ ہوں گے۔

نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بتایا کہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی اورجسٹس کے کے آغا کے خالف سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی سپریم کورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کرنے کے سبب روک دی گئی ہیں۔

سپریم کورٹ میں ہونے والی نئے عدالتی سال کی تقریب، جسٹس قاضی فائز عیسٰی بھی شریک ہیں۔
فوٹو بشکریہ: پی آئی ڈی

چیف جسٹس نے کہا کہ وہ بخوبی آگاہ ہیں کہ معاشرے کا ایک طبقہ جوڈیشل ایکٹیوازم میں دلچسپی نہ لینے کی وجہ سے خوش نہیں ہے، اسکی وجہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ جوڈیشل ایکٹیوازم کی بجائے عملی فعال جوڈیشل ازم کو بڑھا رہی ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل سے انصاف کے سوا کوئی توقع نہ رکھی جائے۔

نئے عدالتی سال پر آغاز پر سپریم کورٹ میں ہونے والی اس تقریب میں دیگر ججوں کے ہمراہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی بھی شریک تھے

سپریم کورٹ کی طرف سے جو نئی کاز لسٹ جاری کی گئی ہے اس کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسٰی کو بینچ 4 کا سربراہ بنایا گیا ہے، جسٹس مقبول باقر اور جسٹس اعجاز الاحسن اس بینچ کا حصہ ہونگے۔