وزیرخارجہ شاہ محمو قریشی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہیں ہے اس لئے جس کا ذاتی مفاد نہ ہو وہ قومی مفادات کا سودا نہیں کرتا، وزیراعظم قومی مفادات کا سودا نہیں کریں گے۔

وہ کشمیر بارے نیشنل پارلیمنٹیرینز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سیشن سے قبل دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہم متحد ہیں اور پوری قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا اگر کشمیر ایشو سے منہ موڑ بھی لے پاکستان ایسا نہیں کر سکتا۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیریوں کا مقدمہ لڑنے جا رہے ہیں وہ قوم کو کبھی مایوس نہیں کریں گے، کشمیر کے مسئلے پر روس نے اپنے رویے پر لچک دکھائی ہے، چین کی وجہ سے ہم سلامتی کونسل میں گئے اور او آئی سی کا رویہ بھی بدلا نظر آیا۔ وزیراعظم کبھی قومی مفادات کا سودا نہیں کریں گے، آج پاکستان کی سیاست میں کوئی لچک نہیں ہے، ہم سیاست سے بالاتر ہوکر کشمیر کے ساتھ کھڑے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ایک عالمی تنازع ہے، جو بین الاقوامی قوانین سیکیورٹی کونسل کی قرارداد سے حل ہو گا، بہتر شروعات ہوئی ہے، پاکستان کے بیان کے ساتھ 58 ممالک نے اظہار یکجہتی کیا، 28 یورپی ممالک نےکشمیر کے مسئلے کو سیکیورٹی کونسل کی قرارداد کے ساتھ جوڑ دیا ہے، جنیوا میں ایک انسانی حقوق کی تنظیم نے ہندوستان کے موقف کو رد کیا ، جہاں سے آپ کا مؤقف جانا ہے وہ اسٹیج آج تیار ہو رہا ہے، جو ہمارا ہمیشہ سے مطالبہ رہا ہے وہ یورپی یونین نے بھی اپنالیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری بھارت کے کالے قوانین کا ہمت سے مقابلہ کر رہے ہیں، آج بھارت کے اپنے ٹکڑے ہونا شروع ہو گئے ہیں، اگر مودی میں ہمت ہے اور اگر اس نے صحیح معنوں میں کشمیری عوام کی بہتری کیلئے یہ قدم اٹھایا ہے تو پھر وہ کرفیو اٹھا، کشمیر آئے اور خطاب کرے، اسکو جواب مل جائے گا لیکن اس میں اتنی ہمت نہیں ہے نہ وہ ایسا کرے گا۔