وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں، دونوں ممالک کے درمیان جاری تناو سے دنیا کو خطرہ ہے لیکن پاکستان کبھی بھی پہل نہیں کرے گا۔

لاہور میں انٹرنیشنل سکھ کنونشن سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ جس دن وزیراعظم بنا تو پہلی کوشش یہی تھی کہ ہندوستان سے تعلقات اچھے بنائیں اور ان کو پیغام دیا کہ آپ ایک قدم بڑھائیں گے تو ہم دو قدم بڑھائیں گے لیکن ہم نے جتنی بھی کوشش کی دوسری طرف سے مثبت جواب نہیں آیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت کی موجودہ حکومت کا نظریہ وہی ہے جس وجہ سے پاکستان بنا کیونکہ یہ ہندو راج چاہتے ہیں۔ اس وقت کشمیر میں بھی جو صورتحال ہے وہ کوئی بھی برداشت نہیں کر سکتا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس بھارت کو جس طرف لے جارہی ہے، اس میں کسی اور مذہب کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی، ہندو انتہا پسندی کی سوچ تو دلتوں اور سکھوں کو بھی برداشت نہیں کرے گی۔

سکھ برادی کو ویزا مسائل پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سکھ برادری کو ویزا کے حصول میں درپیش مسائل حل کریں گے، جب حکومت ملی تو پتا چلا پاکستانی ویزے کا حصول مشکل تھا لیکن ہماری حکومت نے ویزے کا حصول آسان بنانے کی کوشش کی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ سکھ برادری کیلیے ملٹی پل ویزا کی پالیسی بنائی جائے گی۔