وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کو واضح پیغام دیا ہے کہ جنگ ہمارا آخری آپشن ہوگا، اگر بھارت کی طرف سے جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستانی فوج اور غیور عوام بالکل تیار ہیں۔

وہ برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دے رہے تھے جس میں انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لئے بھی تیار ہیں اگر مذاکرات والا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ جب تک بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نہیں روکتا، کرفیو ختم اور کشمیری قیادت کو رہا نہیں کرتا تب تک مذاکرات کی میز پہ آنا مشکل ہے۔

فائل فوٹو: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اس خطے کے اہم مسئلے کے تین فریق ہیں، پاکستان، بھارت، اور کشمیری عوام۔ اگر بھارت کشمیری حریت لیڈروں کو رہا کرے اور مجھے ان سے ملاقات کی اجازت دے تو میں ان سے ملکر انکا موقف سن سکتا ہوں، کیونکہ ان کے جذبات کو روند کر مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھا جا سکتا نہ امن قائم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی ہمیشہ امن رہا ہے، کبھی جارحانہ سوچ نہیں اپنائی لیکن اگر بھارت کی جانب سے کوئی جارحانہ قدم اٹھایا جاتا ہے تو اسے 26 فروری یاد رکھنا چاہئے، پاکستان فوج اور عوام بالکل تیار بیٹھی ہیں اس کی تازہ مثال ایک موثر غزنوی میزائل کا تجربہ بھی ہے جس سے بھارت کو سبق سیکھنا چاہئے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی یہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ جو پردے میں تھا اب ایک مرتبہ پھر سے مرکزی اسٹیج پر آ گیا ہے، اب کی بار یہ دونوں ملکوں کا نہیں بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے۔ خلیجی ممالک کی جانب سے بھارتی وزیراعظم کو ایوارڈز سے متعلق شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ انکے بھارت کے ساتھ کاروباری روابط ہیں لیکن پاکستانی عوام کو مایوس نہیں ہونا چاہئے، کشمیر کے مسئلے پر سب کا موقف واضح ہے اور وہاں کی عوام بھی کشمیر کے مسئلے پر کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہے۔