وزیر اعظم عمران خان کا نفرت آمیز تقاریر اور اسلام مخالف جذبات کیخلاف مؤثر اقدامات کا مطالبہ، کہتے ہیں مذہب کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن کسی بھی کمیونٹی کو الگ تھلک کرنے سے انتہا پسندی بڑھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تشدد اور امتیاز میں اضافہ مذہب اور عقائد کی بنیاد پر ہو رہا ہے، نفرت انگیزی اور نسلی امتیاز کی وجوہات اور اسکے نتائج سے نمٹا جانا بہت ضروری ہے۔ دنیا بھر کی کمیونیٹیز کے درمیان برداشت اور سمجھ بوجھ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، نفرت انگیز تقریر کا مقابلہ کرنے کے لئے اقوام متحدہ باشعور مکالمت کا اہم پلیٹ فارم ہے اور دنیا کو سمجھنا ہوگا کہ اسلام اور نبی کریم ﷺ سے مسلمانوں کو کتنی محبت ہے۔وزیر اعظم عمران خان اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے نفرت انگیز بیانیوں اور تقاریر کے تدارک کے موضوع پر اقوام متحدہ میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کی مشترکہ میزبانی کی۔ عمران خان نے کہا کہ آزادی اظہار کی آڑ میں مذہبی شخصیات اور کتابوں کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

اس موقع پر اجلاس سے خطاب میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ انسانیت کے خلاف جرائم سے پہلے نفرت انگیز تقاریر جنم لیتی ہیں، پوری دنیا میں مسلمان نفرت انگیز تقاریر کا آسان ہدف ہیں۔

ترک صدر نے مزید کہا کہ بھارت میں گائے کا گوشت کھانے پر مسلمانوں کو زندہ جلایا جارہا ہے، پورا مقبوضہ کشمیر جیل کی شکل اختیار کرچکا ہے اور وہاں بھارت کی جانب سے خون ریزی کا خدشہ ہے۔ انہوں ںے آزاد جموں و کمشیر اور پاکستان کے دیگر شہروں میں زلزلے سے ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔