پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے وزارت توانائی پاور ڈویژن کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا، پیپکو اور این ٹی ڈی سی کے سربراہان کی اڑھائی سال سے عدم تقرری پر آڈٹ اعتراض بنانے کی ہدایت کردی۔ کمیٹی نے سرکاری حج ختم کرنے کی بھی سفارش کردی۔

پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینئر کمیٹی نور عالم خان کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں وزارت توانائی پاور ڈویژن کے مالی سال 2017-18 کی ضمنی بجٹ گرانٹ اور آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کنوینئر نور عالم خان نے کہا کہ کمیٹی نے ہدایت کی تھی کہ تمام فیڈرز کو انرجائز کیا جائے، کیا کمیٹی کی اس ہدایت پر عمل کیا گیا ؟ کیا تقسیم کار کمپنیوں نے ریکارڈ بھجوایا ہے یا نہیں؟

نور عالم خان نے کہا کہ حکومت نے 11کے وی کی ترسیلی لائن پر حکومت کا خرچہ کیا مگر وہ چل نہیں رہے، تقسیم کار کمپنیوں میں افرادی قوت کی کمی ہے اور لائن سپرنڈنٹ کی جانب سے سب ڈویژن چلائے جارہے ہیں سب ڈویژن چلانے کا مجاز ایس ڈی او ہے، 4ماہ گزرنے کے باوجود ہمیں ان کا جواب نہیں ملا، این ٹی ڈی سی اور پیپکو کا چیف جوائنٹ سیکرٹریز کو رکھا گیا ہے، دونوں اداروں کے مستقل سربراہان کی تعیناتی بھی نہیں کی گئی،

انہون نے کہا کہ نیب سے بھی این ٹی ایس کی تحقیقاتی رپورٹ مانگی تھی، وہ بھی نیب کی جانب سے نہیں دی گئی، کمیٹی نے بدعنوان افسران کی معلومات مانگی تھیں، وہ بھی اب تک فراہم نہیں کی گئی، کمیٹی نے ہدایت کی تھی بجلی چوری والے علاقوں کے ایکسیئن اور ایس ڈی اوز کو معطل کرنے کی رپورٹ بھی نہیں آئی کیونکہ عوام کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے، فیڈرز کو بند کرنا غیر قانونی ہے۔

سیکرٹری پاور ڈویژن عرفان علی نے کہا کہ 11 کے وی کے تمام تقسیم کار کمپنیوں میں 9248 فیڈرز ہیں، ان میں سے 9209 فیڈرز انرجائز ہیں، 39فیڈرز ابھی انرجائز ہونے ہیں ، آئیسکو میں 13 اور کیسکو میں 26 فیڈرز انرجائز ہونا ہیں، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں بھرتیوں کیلئے آسامیاں مشتہر کی گئی ہیں، 2 ماہ میں یہ عمل مکمل ہوجائے گا، پیپکو اور این ٹی ڈی سی میں کل وقتی ایم ڈی کی تعیناتی پر کام ہورہا ہے ۔

کمیٹی کے کنوینئر نے کہا کہ 6 ماہ میں ایم ڈی این ٹی ڈی سی تعینات نہیں کیا گیا اور سی ای او پیپکو کی تعیناتی نہیں ہوئی۔ نور عالم خان نے وزارت توانائی پاور ڈویژن پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈی ایم جی گروپ کو ہر جگہ تعینات نہیں کیا جانا چاہیے اس کا مطلب پھر آپ ایس ڈی او کی جگہ بھی اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر لگادیں، کمیٹی نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو ہدایت کی اڑھائی سال سے این ٹی ڈی سی اور پیپکو کے سربراہان کی عدم تعیناتی پر آڈٹ اعتراض بنایا جائے ، کیونکہ اس میں پی اے سی کی ہدایات کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔

کمیٹی کنوینئر نور عالم خان نے کہا کہ سیپکو کے چیف 11 کے وی کا ٹرانسفارمر بند کرکے اس کے ساتھ سیلفی لیکر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرتے ہیں، بجلی منقطع کرنا قانوناً جرم ہے اور انسانی حقوق کے منافی ہے، اس میں جو نادہندہ ہیں اس کی بجلی کاٹ دی جائے۔ کمیٹی رکن نوید قمر نے کہا کہ اگر 99فیصد لوگ نادہندہ ہیں تو ان کی بجلی منقطع کی جائے، 1 فیصد کی بجلی نہ کاٹی جائے، پورا ٹرانسفارمر ہی ہٹانا درست نہیں ہے۔

کمیٹی نے اپنی تمام ہدایات بارے رپورٹ 7دن میں وزارت توانائی پاور ڈویژن فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔ کمیٹی کنوینئر نور عالم خان نے کہا کہ ہم ہدایت دیتے ہیں تو وہ رک جاتی ہے۔ کمیٹی رکن شاہدہ اختر علی نے کہا کہ ایک بھی بدعنوان افسر یا اہلکار کی اب تک معلومات کمیٹی کو فراہم نہیں کی گئیں۔ سیکرٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ کمیٹی سےاس فہرست کا تبادلہ کیا جائے گا، اس میں 20 گریڈ کے افسران کے خلاف بھی کاروائی کی گئی ہے۔

کمیٹی کنوینئر نور عالم خان نے جب خزانہ ڈویژن سے سوال پوچھا کہ تو خزانہ ڈویژن سے ڈپٹی سیکرٹری کے آنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی سیکرٹری یہاں جواب دینے کا مجاز نہیں ہے، جوائنٹ سیکرٹری پاور ڈویژن کا یہاں موجود ہونا لازمی ہے۔ اس پر ہماری برہمی وزیر آفس کو بھیجی جائے، قانون اگر ایم این اے فالو کرے گا وہ بیوروکریسی بھی کرے۔

آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ نیسپاک کے ملازمین کو حج اور قربانی کیلئے 72لاکھ روپے سے زائد خلاف ضابطہ اخراجات کئے یہ اخراجات کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلیٹی (سی ایس آر ) کے ہیں اور یہ خرچ کئے گئے۔ کمیٹی نے معاملے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج اور قربانی اپنے پیسوں سے کی جائے تو ثواب ملتا ہے، حج فریضہ ہے، حج پہ وہی جا سکتا ہے جو صاحب استطاعت ہو۔ کمیٹی رکن شبلی فراز نے کہا کہ ملازمین سے یہ پیسے ریکور کئے جائیں۔ کمیٹی نے ہدایت دی کہ سرکاری حج بند کیا جائے۔ سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ یہ حکومت کی جانب سے پالیسی رکھی گئی ہے کہ قرعہ اندازی کے ذریعے سرکاری ملازمین کو حج پر بھیجا جاتا ہے۔