مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ کے سلسلے میں عوام ہم سے بہت آگے ہیں، آزادی مارچ کی تاریخ کا تعین ایک دو روز میں کر لیا جائے گا۔

وہ جامعہ مدنیہ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 15 ملین مارچ کرچکے ہیں، ہم اسلام آباد پرامن طور پر آئیں گے، کسی ادارے کے ساتھ تصادم کا ارادہ نہیں ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا پیغام آیا ہے کہ این آر اوز اور ڈیلز نے پاکستان کو اس نہج تک پہنچایا، حکومت کو این آر او نہیں دیں گے، عوام کی اذیت کا شکار کرنے والی اس ناجائز حکومت کا جانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ جولائی 2018 میں دیگر سیاسی جماعتوں نے ہمارے ساتھ معاہدہ کیا تھا، انہیں اس پر عمل کرنا چاہیے، جمعیت علمائے اسلام تنہے تنہا بھی آزادی مارچ کرسکتی ہے مگر چاہتے ہیں سب جماعتیں ایک صف میں نظر آئیں۔ آزادی مارچ میں تحفظ ناموس رسالت سمیت تمام ایشوز آتے ہیں، ہم آئین، اسلامی دفعات، بدامنی، مہنگائی اور عوام کے دیگر مسائل کے خلاف آزادی مارچ کر رہے ہیں۔