جاپان میں بطخ کی چونچ کی طرح منہ والے نئے ڈائنا سور کی باقیات دریافت ہوئی ہے۔

جاپان کی ہوکیڈو یونیورسٹی کے مطابق یہ جاپان سے اب تک دریافت ہونے والا سب سے بڑے ڈائنا سور کے سر کا ڈھانچہ ہے جو موکاوا کے علاقے میں 7 کروڑ 20 لاکھ سال پرانے پانی میں محفوظ تھا۔

2013 میں کھدائی کے دوران ڈائنا سور کی دم کا حصہ دریافت ہوا تھا۔

فوٹو بشکریہ: سی این این

سائنٹفک رپورٹس نامی جریدے میں شائع ایک تحقیق کے مطابق مسلسل کھدائی کے دوران ڈائناسور کے سر کا مکمل ڈھانچہ دریافت ہوا جو سبزی خور ڈائنا سور کی ایک نئی قسم ہے جس کا چہرہ بطخ کی چونچ سے مشابہت رکھتا ہے۔

سائنسدانوں نے نئے دریافت ہونے والے ڈائنا سور کو کیموسارس جیپونیسس کا نام دیا ہے، کیمو شمالی جاپان کی قدیم تہذیب سے تعلق رکھنے والے قبیلے اینو کا لفظ ہے جس کے معنی ’ڈائٹ‘ کے ہیں جب کہ سارس لاطیبی ربان کا لفظ ہے جس کا مطلب ریپٹائل یعنی رینگنے والے جاندار ہیں اور جیپونیسس سے مراد جاپان ہے۔

تحقیق کے مطابق دریافت ہونے والی باقیات نوجوان ڈائنا سور کی ہے جس کی لمبائی 8 میٹر اور وزن 4 سے 5 اعشاریہ 3 ٹن تک ہے۔

نئے دریافت ہونے والے ڈائنا سور کی پیشانی کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے بطح کی چونچ والے ڈائنا سور سے تشبیہ دی گئی ہے۔