چیئرمین نیب کی زیرصدارت نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں سابق مینجنگ ڈائریکٹر پاکستان اسٹیٹ آئل عرفان خلیل قریشی اور دیگرکیخلاف بد عنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ ملزمان پر اختیارات کے ناجائز استعمال سے قومی خزانے کو مبینہ طور پر تقریباََ 552ملین روپے نقصان پہنچانے کا الزام ہے

ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں 12 انکوائریوں کی منظوری دی گئی ہے جس میں عبد الحمید اور دیگرکے خلاف بد عنوانی کا ریفرنس دائر کرنے، بابر خان غوری سابق وزیراورپور ٹ قاسم اتھارٹی کراچی کے افسران و اہلکاران کیخلاف انکوائری، فواد حسن فواد اور پورٹ قاسم اتھارٹی کراچی کے افسران و اہلکاران کیخلاف انکوائری، سینیٹرکلثوم پروین، رکن صوبائی اسمبلی سید اویس شاہ، علی غلام نظامانی اور سعید خان نظامانی کیخلاف انکوائری کی منظوری دی گئی ہے

نیب ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں کاشف الف خان اور دیگرکے خلاف تفتیش کی منظوری دی گئی۔

نیب ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں ایم ڈی سی کے افسران کیخلاف کیس کو قانون کیمطابق کارروائی کے لئے پی ایم ڈی سی کو بھیجنے کافیصلہ جبکہ قائم مقام چیئرمین کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان ڈاکٹر جوزف ولسن اور دیگر کیخلاف عدم شواہد کی بنیاد پر انویسٹی گیشنز بند کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

نیب کے اجلاس میں خیبر پختونخواہ احتساب کمیشن کے افسران و اہلکاران کیخلاف بھی انویسٹی گیشنز بند کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

چئیرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب “احتساب سب کے لئے ” کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے، نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ اور بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی رقوم برآمد کرنے کیلئے کوشاں ہے۔

چئیرمین نیب کا کہنا تھا کہ نیب کا ایمان کرپشن فری پاکستان ہے، میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی ملک کی ترقی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیشت رکھتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نیب نے گزشتہ 22 ماہ میں 71 ارب روپے بلواسطہ اور بلا واسطہ طور پر بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے۔