لاہور میں چوہدری شوگر ملز کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج امیر محمد خان نے کی۔ نیب نے نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز اور انکے کزن یوسف عباس کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا اس موقع پر سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے۔

نیب کے تفتیشی افسر کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ میاں شریف، کلثوم نواز، حسین نواز اور مریم نوازسمیت شریف خاندان کے دیگر افراد بھی چوہدری شوگر ملز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل تھے۔  عدالت کو بتایا گیا کہ مریم نواز 1992 میں چیف ایگزیکتو رہیں۔

نیب کے تفتیشی افسر نے عدالت سے استدعا کی کہ چوہدری شوگر ملز کی جانب سے مختلف بینکوں سے قرض لیا گیا تھا جسکی تفصیلات کے لئے اسٹیٹ بینک سے رجوع کر رکھا ہے لہٰذا ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید توسیع درکار ہے۔

مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے نیب کی جانب سے الزام کی مخالفت کی گئی، انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 1992 میں تمام جائیدادیں میاں شریف کے نام تھیں اور 1992 سے 1999 تک انہوں نے اپنی پراپرٹی بچوں کے نام کی۔ اس وقت مریم نواز کو سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیا گیا ہے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد نیب کی استدعا منظور کی اور مریم نواز کو مزید 8 روز کے جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کو نیب نے چوہدری شوگر ملز کیس میں 8 اگست کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کے لئے کوٹ لکھپت جیل لاہور گئیں۔