کشمیر سے یکجہتی کے لئے اعلان کردہ کشمیر آور پر 12 بجتے ہی وزیراعظم عمران خان اپنے آفس سے باہر آئے۔ معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان اور دیگر رہنما بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔ وزیراعظم آفس کو عوام کے لئے کھول دیا گیا، قومی ترانے اور کشمیر کے ترانوں کی دھنیں بجائی گئیں۔

کشمیر آور کے سلسلے میں شاہراہ دستور پر عوام کا جمِ غفیر

عوام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا نظریہ دراصل آر ایس ایس کا نظریہ ہے جو مسلمانوں کے خلاف نفرت سے بھرا ہے، یہ نظریہ دیگر مذاہب کو برابری کا حق نہیں دیتا، آرایس ایس کا نظریہ بھی جرمن نازی ازم جیسا ہے اس نظریے نے بھارت پرقبضہ کرلیا، جہاں بھارت کے آئین اور نہرو کے نظریہ کو نہیں بلکہ صرف ہندو کو مانا جاتا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نریندرمودی تکبرمیں آخری پتا کھیل بیٹھا، دل کہتا ہے کہ اب کشمیرآزاد ہوگا۔ ہم مقبوضہ کشمیرکی آزادی تک ہرفورم پرجنگ لڑینگے۔ دو ایٹمی ممالک آمنے سامنے ہوںگے تو اثرات دنیا بھرمیں پڑینگے۔

وزیراعٖظم عمران خان نے خطاب میں کہا کہ امریکی صدرسمیت دیگرسربراہان کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور بھارتی مظالم سے اگاہ کیا۔ یورپی اورعرب سربراہان کو بھی مودی اورآرایس ایس کے نظریے سے متعلق بتایا ہے۔

ڈی چوک اسلام آباد میں عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

انہوں نے کہا کہ کشمیر کی آزادی تک ہر فورم پر جنگ لڑیں گے، دو ایٹمی ممالک اگر آمنے سامنے ہوں تو صرف دو ممالک کو نقصان نہیں ہوگا بلکہ اثرات تمام دنیا پرپڑیںگے۔

وزیراعظم نے کہاکہ مودی سرکار اپنی اپوزیشن کو بھی کشمیر جانے نہیں دے رہی، مقبوضہ کشمیر پر مظالم سے توجہ ہٹانے کے لئے بھارت پاکستان کیخلاف منفی پروپیگنڈا کرتا ہے جسے ہم کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر عالمی برادری کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہےکہ اگر کشمیری مسلمان نہ ہوتے تو آج ساری دنیا ان کے ساتھ ہوتی مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہےکہ جب مسلمانوں پر ظلم ہوتا ہے تو عالمی برادری اور اقوام متحدہ جیسے انصاف دینے والے ادارے خاموش رہتے ہیں