اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ وہ وادیِ اردن کو صیہونی ریاست کا حصہ بنائیں گے

اس بات کا اعلان انہوں نے سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج میں اپنے ارادے کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ اگر میں الیکشن جیت گیا تو وادی اردن اور شمالی بحیرہ مردار پر صیہونی اجاراداری قائم کر دوں گا۔

نیتن یاہو نے مزید کہا کہ یہ قدم میں الیکشن کے بعد اسی وقت اٹھا سکوں گا جب اسرائیلی عوام مجھے واضح مینڈیٹ دیں۔

نیتن یاہو کو اپنے کیرئیر کے سخت ترین انتخابات کا سامنا ہے جہاں وہ امریکہ کے ساتھ امن معاہدے پر مشاورت کر رہے ہیں اور انکی ریاست کو مختلف مسائل کا سامنا بھی ہے۔

دوسری جانب  2400 اسکوائر کلو میٹر پر مشتمل وادی اردن اور شمالی بحیرہ مردار کا مغربی کنارے کا تقریبا 30 فیصد بنتا ہے جہاں 65 ہزار فلسطینی اور تقریبا 11 ہزار یہودی آبادکار بستے ہیں، یہ علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے جسے ’سی ایریا‘ بھی کہا جاتا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس اور وزیراعظم محمد شطائیہ نے اسرائیلی وزیراعظم کے بیان کی مذمت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر ایسا کوئی فیصلہ کرنے کی کوشش کی گئی تو اسرائیل کے ساتھ کئے گئے تمام معاہدے ختم ہو جائیں گے