وزیراعظم عمران خان نے امریکی کونسل فار فارن ریلیشنز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2008 میں امریکا آیا تو ڈیموکریٹس کو بتایا تھا کہ افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار لوگوں نے جانیں قربان کیں، 200 ملین ڈالرز کا نقصان ہوا۔

عمران خان نے کہا کہ سوویت فوج نے افغانستان میں جنگ کے دوران 10 لاکھ شہریوں کو ہلاک کیا، پاکستان میں 27 لاکھ افغان پناہ گزین رہ رہے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ ہم پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا کام کررہے ہیں، افغان معاملہ بہت مشکل ہے، میں نہیں سمجھتا کہ افغان طالبان سو فیصد افغانستان پر کنٹرول کر سکتے ہیں، افغان شہری گزشتہ چالیس سال سے مشکلات کا شکار ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں اور انکا مورال بلند ہے، وہ امریکی صدر کو بھی بتائیں گے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی۔ میں افغان طالبان سے خود بات کرنا چاہتا تھا لیکن وہاں کی حکومت نے منع کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ جنگ کے حامی نہیں ہیں، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہوت، پاکستان پڑوس کے کسی ملک کے ساتھ بھی تنازع کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اچھا ہوتا طالبان سے بات چیت ختم کرنے سے پہلے پاکستان سے مشورہ کر لیا جاتا۔ مذاکرات اور جنگ ایک ساتھ ہوں تو مسائل بڑھتے ہیں، اصل چیز کسی بھی فیصلے میں مستقل مزاجی ہوتی ہے۔ اچھا ہوتا افغان امن معاہدہ طے جاتا تو ہم افغان حکومت اور طالبان کو ساتھ بٹھاتے۔

گفتگو کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ایبٹ آباد کمیشن کا نتیجہ کیا تھا انہیں نہیں معلوم لیکن پاکستان تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ امن چاہتا ہے، اسی سلسلے میں افغان صدر اشرف غنی کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اندازہ ہواکہ بھارت ہمیں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی بلیک لسٹ میں دھکیلنے کی سازش کر رہاہے، پھر میں نے کہا کہ بھارت آر ایس ایس کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے، امریکی صدر ٹرمپ سے بھارت کے معاملے پر بات کی، بھارت میں انتخابی مہم پاکستان مخالفت کو بنیاد بنا کر چلائی گئی۔

وزیر اعظم عمران خان نے مزید کہا کہ بھارت نے کرفیولگا کر 80 لاکھ کشمیریوں کو گھروں میں نظر بند کر رکھا ہے، عالمی برادری بھارت کو کشمیر سے کرفیو اٹھانے کا کہے، اقلیتوں کو پاکستان میں برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ بھارت ہمارے ساتھ بات کرتا ہے نہ ثالثی کو قبول کرتا ہے، وہاں کی حکومت اس وقت آر ایس ایس کے ایجنڈے کے تحت چل رہی ہے، بھارت اس وقت گاندھی یا نہرو کا ملک نہیں رہا بلکہ انتہاپسند ہندووں کے قبضے میں چلا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چین نے کبھی ہماری خارجہ پالیسی میں مداخلت کی کوشش نہیں کی، ایسے کوئی مطالبات چین کی طرف سے نہیں آئے جن سے ہمارا اقتدار متاثر ہو۔ چین نے ڈیفالٹ سے بچنے کیلئے پاکستان کی مدد کی، گھر کو چلانے کیلئے بھی اخراجات کم اورآمدن بڑھانا ہوتی ہے، ماضی کی حکومتوں کی معاشی ناکامی کے باعث آئی ایم ایف جانا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ میرا منشور قانون کی حکمرانی اور کمزوروں کی مدد کرنا ہے، دیہی خواتین کو غربت سے نکالنے کیلئے پروگرام پر کام کر رہے ہیں، خواتین، اقلیتوں کے تحفظ کے قوانین موجودہیں، ان پرعمل درآمد کمزور ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے اقدامات کررہے ہیں، کرتارپور ایسا ہی اقدام ہے، اسلام ایک ہی ہے، اکثریت اعتدال پسند ہے اور ایک چھوٹی سی تعداد انتہا پسند ہے، اسلام میں اقلیتوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔