سپریم کورٹ میں نئے سال کا آغاز ہوا تو چیف جسٹس نے از خود نوٹس کے استعمال کا مسئلہ حل کرنے کا بیڑا اٹھا لیا، کہتے ہیں آئندہ فل کورٹ ریفرنس تک مسودہ تیارکرلیا جائے گا از خود نوٹس کے مسئلہ کو ہمیشہ کیلئے حل کرلیا جائے گا۔

انھوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو مشکل ترین کام بھی قرار دیا، کہتے ہیں آئین صدر مملکت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ کونسل کو کسی جج کے کنڈکٹ کی تحقیقات کی ہدایت کرے۔

سپریم کورٹ میں نئے سال کے آغاز پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں فل کورٹ ریفرنس ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوسائٹی کا ایک طبقہ جوڈیشل ایکٹیویزم میں عدم دلچسپی پرناخوش ہے جوڈیشل ایکٹیویزم کی بجائے سپریم کورٹ عملی فعال جوڈیشل ازم کوفروغ دے رہی ہے۔

از خود نوٹس کی وضاحت کرتے ہوئے چیف جسٹس نےکہاکہ ازخود نوٹس سے عدالتی گریز زیادہ محفوظ اور کم نقصان دہ ہے، سوموٹو کا اختیار قومی اہمیت کے معاملے پراستعمال کیا جائے گا، کسی کے مطالبے پر لیا گیا نوٹس ازخود نوٹس نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہاکہ اپنے گھر کو درست کرنے کا فیصلہ کیا گیا ضروری پڑنے پرعدالت ازخود نوٹس لینے کا اختیاراستعمال کرے گی۔ آئندہ ہونے والے فل کورٹس ریفرنس تک ازخود نوٹس کے استعمال کا مسودہ تیارکرکے اس معاملے کو ہمیشہ کیلئے حل کرلیا جائے گا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئین صدر مملکت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ کونسل کو کسی جج کے کنڈکٹ کی تحقیقات کی ہدایت کرے۔ سپریم جوڈیشل کونسل اس طرز کی آئینی ہدایات سے صرف نظر نہیں کرسکتی۔ صدر مملکت کی کسی جج کے خلاف شکایت سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ کونسل اپنی کارروائی میں آزاد اور بااختیار ہے۔

انھوں نے کہا کہ صدر مملکت کی جانب سے بھجوائے گئے دونوں ریفرنسز پر کونسل اپنی کارروائی کررہی ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے تمام ممبران اور چیرمین اپنے حلف پر قائم ہیں۔ کونسل کسی بھی قسم کے خوف، بدنیتی یا دباؤ کے بغیر اپنا کام جاری رکھے گی انصاف کی فراہمی کے علاوہ کونسل سے کوئی بھی توقع نہ رکھی جائے۔

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ عدالتی سال میں کونسل میں 149 شکایات نمٹائی گئیں۔ اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل میں 9 شکایات زیر التواء ہیں۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل انورمنصورنے خطاب میں زیرالتوا مقدمات کی تعداد میں کمی ہونے پر تعریف کی، بولے 2 ستمبر2019 تک41 ہزار553 میں سے 19791مقدمات کا فیصلہ کیا گیا، عالمی عدالت انصاف نے بھی عدالتی نظام پراعتماد کا اظہارکیا ہے۔

صدرسپریم کورٹ بارامان اللہ کنرانی نے خطاب میں کہا معاشرے میں تنقید کرنا آسان اورعمل مشکل بن گیا ہے، کسی کو معزز جج کی کردار کشی کا استحقاق نہیں ہونا چاہیے