اسلام آباد کے سینیٹری ورکرز نے کام چھوڑ ہڑتال کر دیا، کہتے ہیں صفائی تو روزکرتے ہیں لیکن گزشتہ تین ماہ سے تنخواہ نہیں ملی۔ بچے سکول نہیں جا رہے، زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں کام کرنے والے سینیٹری ورکرز نے تنخواہ کی عدم ادائیگی کی وجہ سے کام چھوڑ دیا ہے، انکا کہنا ہے کہ ابھی احتجاجاََ کام چھوڑا ہے لیکن اگر مطالبات نہیں مانے جاتے تو پارلیمنٹ ہاوس کی طرف مارچ بھی کریں گے۔

سینیٹری ورکر بھاری تنخواہیں لینے والے افسران سے شکوہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شہر کی صفائی کے لئے صبح سے شام تک کام کرتے ہیں، کوئی کثر نہیں چھوڑی جاتی تو پھر تنخواہ تو وقت پر مہیا کی جانی چایئے۔ گزشتہ تین ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے انکے بچے سکول نہیں جا پا رہے جبکہ گھر کا خرچ چلانا ناممکن ہو چکا ہے، انکا موقف ہے کہ اب تو انہیں کوئی ادھار بھی نہیں دیتا جبکہ واپس کرنے کا کوئی ٹائم فریم نہیں ہوتا انکے پاس۔

بواضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا شمار دنیا کے خوبصورت دارالحکومتوں میں ہوتا ہے جسکا سہرا انتظامیہ کے ان نچلے درجے کے ورکرز کو بھی جاتا ہے جو شہر کی صفائی کا خاص خیال رکھتےہیں

00