لاہور کی احتساب عدالت میں پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں خواجہ سعد اور سلمان رفیق کو عدالت میں پیش کیا گیا اور ملزمان کو ریفرنس کی نقول فراہم کی گئیں۔

عدالت نے خواجہ سعد اور سلمان رفیق پر فرد جرم عائد کردی تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا جب کہ خواجہ برادران نے نیب کا دائرہ اختیار بھی چیلنج کردیا۔

ملزمان کی جانب سے صحت جرم سے انکار پر عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہوں کو شہادتوں کے لیے طلب کرلیا جب کہ کیس کی مزید سماعت 13 ستمبر تک ملتوی کردی۔

عدالت کے باہر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں سے چار ہزار ارب کا قرض بڑھ گیا ہے، صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کمپنیوں کو 225 ارب روپے معاف کیے گئے، اپوزیشن نے پوائنٹ اٹھایا ہے تو کہا جارہا ہے کہ ترمیم کریں گے، کیا وزیراعظم کی مرضی کے بغیر آرڈیننس جاری ہوسکتا ہے۔

انہوں نے وزیر ریلوے شیخ رشید کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جس ریلوے کو کھڑا کیا اسے برباد کردیا گیا ہے، ٹرینیں 15 گھنٹے لیٹ اور حادثات کی شرح 4 فیصد بڑھ چکی ہے، جور ریلوے کی رپورٹ پیش کی گئی ہے وہ جھوٹ کا پلندہ ہے۔