مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے 5 اگست کے اقدام کے بعد کرفیو اور پابندیوں کو آج 34 دن ہو چکے ہیں اور بھارتی فوج کی جانب سے نہ کشمیریوں پر ظلم کی ایک داستان تاحال جاری ہے۔ ہنڈوارہ میں زیرحراست نوجوان کو تشدد کرکے شہید کردیا گیا۔

کشمیر میڈیا سروس کےمطابق ہنڈوارہ کے شہری ریاض احمد کو بدھ کو گرفتار کیا گیا، قلم آباد پولیس اسٹیشن میں نوجوان شدید تشدد کے بعد شہید ہوگیا۔ بھارتی انتظامیہ نے مزید 29 کشمیریوں کو آگرہ سینٹرل جیل منتقل کردیا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گزشتہ روز نماز جمعہ کے بعد سیکڑوں کشمیریوں نے بھارت کے خلاف مظاہرے کیے جہاں سوپور، ہاجن، اسلام آباد، پلوامہ اور شوپیاں سمیت دیگر علاقوں میں مظاہرے کیے گئے۔ قابض سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر آنسو گیس اور پیلٹ گنز کی شیلنگ کی جس سے متعدد کشمیری زخمی ہوئے۔

کشمیری میڈیا کے مطابق مقبوضہ وادی کی مرکزی مساجد میں نماز جمعہ کی اجازت بھی نہیں دی گئی، وادی میں 34 روز سے جاری کرفیو کی وجہ سے مواصلاتی نظام معطل ہے، جبری پابندیوں کی وجہ سےکشمیری گھروں میں محصور ہیں جس نہ صرف اشیائے خوردنوش بلکہ دوائیوں کی بھی قلت کا سامنا ہے جب کہ مریضوں کو اسپتال جانے کی اجازت نہیں دی جارہی۔