وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسلام امن کا مذہب ہے، دہشتگردی سے اسکا کوئی  تعلق نہیں، دنیا خبردار رہے کہ جنوبی ایشیا میں دنیا کی دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں۔

وہ ہیوسٹن میں اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ کے کنونشن سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کر رہے تھے۔ انکا کہنا تھا کہ اسلام امن سے رہنے کا درس دیتا ہے، مسلمان ناصرف اپنے نبی ﷺ سے محبت کرتے ہیں بلکہ پہلے آئے تمام انبیائے کرام کا احترام کرتے اور اُن پر ایمان رکھتے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں، کسی ایک شخص کے عمل کو پورے مذہب کے ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا۔ قائداعظم نے ہندووں کے رویے کے سبب الگ ملک کے لئے جدوجہد کی۔ ہندوستان میں آج بھی وہی حالات ہیں، مودی کا بھارت گاندگی اور نہرو کے بھارت سے بالکل مختلف ہے، آج بھارت پر ایک مرتبہ پھر انتہاپسند نظریہ قابض ہو چکا ہے۔

فائل فوٹو: وزیراعظم پاکستان عمران خان

وزیراعظم نے کہا کہ کیوں ہر مسلمان کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، کسی ایک شخص کے عمل کو پوری کمیونٹی سے نہیں جوڑا جا سکتا، نائن الیون سے پہلے تو تامل ٹائیگرز دہشت گرد حملے کرتے تھے، پھر اب ہر حملے کو مسلمانوں سے کیوں جوڑا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تمام غیر مسلم اقلیتوں کو ہر قسم کی مذہبی آزادی حاصل ہے جب کہ بھارت میں آج بھی مسلمان اور دیگر اقلیتیں غیر محفوظ اور حقوق سے محروم ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے بھارت کی حکمران جماعت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار کی پالیسی کے باعث مقبوضہ کشمیر کے عوام چار ہفتے سے لاک ڈاون کا شکار ہیں، مودی مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو اقلیت بنانا چاہتے ہیں جو کسی صورت قابل قبول عمل نہیں۔

انہوں نے کہا ایک مہینہ ہونے کو آیا ہے، بھارت سرکار کا مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر جاری ہے، نوجوانوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے، لوگوں کو مارا جا رہا ہے، انہیں علاقہ بدر تک کیا جا رہا ہے۔ بچوں کے لئےخوراک اور بیماروں کے لئے دوائیں نایاب ہو چکی ہیں۔

عمران خان نے دوران خطاب اس خدشے کا اظہار بھہ کیا کہ بھارت آزاد کشمیر میں کاروائی کر سکتا ہے لیکن اگر مودی سرکار نے ایسی کوئی بھی حرکت کی کوشش کی تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا۔ پاکستانی عوام اور پاک فوج مکمل تیار ہے۔

س خدشے کا اظہار بھی کیا کہ بھارت آزاد کشمیر میں کارروائی کر سکتا ہے لیکن اگر مودی سرکار نے ایسی کوئی حرکت کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔