امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی نے سیاسی مخالفین کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لئے دوسرے ملک پر دباو ڈالنے کے الزام میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کر دی ہے۔

مواخذے کی تحریک ڈیموکریٹک پارٹی کی نینسی پلوسی نے پیش کی ہے، انکا کہنا ہے کہ امریکی صدر کو اسکا جواب دینا ہوگا۔

امریکی صدر نے اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مواخذے کی تحریک صرف ایک کچرا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

امریکی ایوان نمائندگی کی اسپیکر نینسی پلوسی نے الزام عائد کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر پر اپنے سیاسی مخالف جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کے لیے دباؤ ڈالا جس سے 2020 کے انتخابات سے قبل ڈیموکریکٹس اور صدر کے درمیان لفظوں کی جنگ کی بنیاد پڑی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اگر صدر ٹرمپ کے خلاف کارروائی آگے بڑھتی ہے اور امریکی ایوان نمائندگان جہاں ڈیموکریکٹس کی اکثریت ہے ان کے خلاف ووٹ دیتی ہے تو ایسی صورت میں ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے تیسرے صدر ہوں گے جن کے خلاف مواخذے کی کارروائی ہو گی۔ دوسری جانب اگر امریکی سینیٹ میں پارٹی پوزیشن دیکھی جائے تو ریپبلکن جماعت کو اکثریت حاصل ہے اور اگر ٹرمپ کو صدارت سے ہٹائے جانے کی کوئی کوشش کی جاتی ہے تو ریپبلکن اس سے بچاو کے لئے مضبوط پوزیشن میں ہے۔

واضح رہے کہ امریکا کی تاریخ میں آج تک صرف دو صدور کا مواخذہ ہوا ہے، مواخذے کا سامنا کرنے والے پہلے صدر اینڈریو جانسن تھے جنہیں 1868 میں اپنے خلاف تحریک کا سامنا کرنا پڑا تھا جب کہ 1998 میں بل کلنٹن کے خلاف مواخذے کی تحریک کامیاب ہوئی تھی۔ رچرڈ نکسن نے 1974 میں اپنے خلاف مواخذے کی تحریک پیش ہونے سے قبل ہی استعفیٰ دیدیا تھا۔