قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے ارکان نے آئی ایم ایف پروگرام پر اپنے تحفظات اور خدشات سے آئی ایم ایف وفد کوآگاہ کر دیا۔

ارکان کمیٹی نے بڑھتی ہوئی مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی ،شرح سود اور سرمایہ کاری نہ ہونے سے متعلق مسائل وفد کے سامنے اٹھائے تاہم آئی ایم ایف وفد نے پروگرام پر اب تک کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی اسد عمر کی صدارت میں ہوا جس میں آئی ایم ایف کے وفد نے بھی شرکت کی، کمیٹی اجلاس میں آمد پر چیئرمین قائمہ کمیٹی خزانہ اسد عمر نے وفد کا استقبال کیا۔ اجلاس میں وزارت خزانہ کے اعلی حکام نے بھی شرکت کی۔

ذرائع کے مطابق کمیٹی ارکان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی روپے کی قدر میں کمی ،شرح سود،اور سرمایہ کاری نہ ہونے سے متعلق اپنے خدشات سے آئی ایم ایف وفد کو آگاہ کیا جبکہ ارکان نے نجکاری سے متعلق بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ نجکاری میں نقصان ہو رہے ہیں، تاہم آئی ایم ایف وفد نے پروگرام میں اب تک کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی اسد عمر نے کہا کہ آئی ایم ایف کے وفد کے مطابق وہ ابھی تک کی پیشرفت سے مطمئن ہیں، ارکان کمیٹی نے سوالات اٹھائے، بڑھتی ہوئی مہنگائی پر بھی بات ہوئی جس پر آئی ایم ایف کے وفد نے اپنا موقف دیا۔

اسد عمر نے کہا کہ ایک رکن نے اجلاس کے آخر میں ایف اے ٹی ایف کا معاملہ بھی اٹھایا لیکن اس معاملے پر بحث نہیں ہوئی، توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر بھی بات ہوئی، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کمیٹی کے رکن قیصر احمد شیخ نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام غیر حقیقی ہے ، اس پروگرام کے کامیاب ہونے کے امکانات نہیں ہیں۔