وزیراعظم عمران خان آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآبا میں جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کبھی بھارت کا حصہ نہیں ہو سکتا، مودی کان کھول کر سن لے وہ کشمیریوں پر جتنے بھی ظلم کر لے اسے کامیابی کسی صورت نہین ملے گی۔ بھارت ہوش کے ناخن لے، اگر جنگ ہوئی تو مودی یاد رکھے کہ ہم آخری دم تک لڑیں گے اور اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ  مجھے پتہ ہے کہ کشمیری نوجوان بھارتی جارحیت کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں اور ہتھیار اٹھا کر لائن آف کنٹرول پار کرنا چاہتے ہیں لیکن جب تک میں نہ کہوں لائن آف کنٹرول کی طرف نہ جانا، پہلے مجھے کشمیر کا کیس دنیا کو بتانے دو، جنرل اسمبلی میں اس معاملے پر بات کرنے دو، اس کے بعد میں آپ کو بتاؤں گا کہ ایل او سی کی طرف کب جانا ہے۔

کشمیر کےعوام کی جو مرضی ہے جو انکی پسند  ہے وہی ہوگا، کشمیریوں کو اپنے فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے، کشمیری عوام کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کےمطابق حل کیا جانا چاہئے۔ کشمیر کا مسئلہ انسانیت کا مسئلہ ہے، چالیس روز سے کشمیری محصورہیں، بطور سفیر دنیا بھر میں کشمیرکے لئے نکلوں گا۔

وزیراعظم کا کہنا تھاکہ نریندر مودی کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ایک بزدل انسان صرف ایسا ظلم کرتا ہے جو آج کشمیریوں پر بھارتی فوج کر رہی ہے، جس میں انسانیت ہوتی ہے وہ کبھی ایسا نہیں کر سکتا جو نریندر مودی اور آر ایس ایس آج کشمیر میں کر رہی ہے، بہادر انسان کبھی بھی عورتوں اور بچوں پر ظلم نہیں کرتا۔ مودی جتنا مرضی ظلم کر لے وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔

عمران خان نے کہا کہ سب کو پتہ ہونا چاہیے کہ مودی بچپن سے آر ایس ایس کا ممبر ہے جس کے اندر مسلمانوں کے لیے نفرت بھری ہوئی ہے، اس جماعت کے بنانے کا مقصد صرف یہ تھا کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کے لیے ہے، مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں اور دیگر لوگوں کے لیے یہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ 58 ملکوں نے پاکستانی موقف کی تائید کی ہے کہ کشمیریوں پر ظلم ہو رہا ہے، پچاس سال میں پہلی مرتبہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھایا گیا اور دوسری طرف او آئی سی نے بھی پاکستانی موقف کو مانتے ہوئے مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی ارکان پارلیمنٹ نے صدر ٹرمپ کو کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کے لئے کہا ہے جبکہ برطانیہ کی پارلیمنٹ میں بھی کشمیر کی گونج سنائی دی گئی ہے۔

عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے عوام کو آگاہ کیا کہ وہ آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لئے جا رہے ہیں وہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی اٹھائیں گے اور ایسا اسٹینڈ لیں گے جو آج تک نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو آر ایس ایس کی نظریات بارے آگاہ کروں گا  کہ وہ ہٹلر کے نظریات کو مانتے ہیں اور ہندوستان میں ہندووں کے علاوہ کسی مذہب کو برداشت نہیں کرتے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کشمیریوں کا سفیر بننے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ وہ ایک پاکستانی اور مسلمان ہیں۔