وزیراعظم پاکستان عمران خان جو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی ہے جس میں مسئلہ کشمیر، خطے کی صورتحال سمیت دیگر اہم امور پر گفتگو کی گئی ہے۔

ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالٹ کا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہوں۔ پاکستان تو میری ثالثی کے لئے تیار ہے تاہم دوسرے فریق بھارت کا تیار ہونا بھی ضروری ہے اگر وہ تیار ہوتا ہے تو میں یقین سے کہتا ہوں کہ ایک اچھا ثالث ثابت ہوں گا اور ناکام نہیں ہوں گا۔

ٹرمپ نے کشمیر کے حوالے سے کہا کہ ‘یہ بہت پیچیدہ معاملہ ہے جو بہت عرصے سے چلا آرہا ہے، اگر دونوں چاہتے ہیں تو ثالثی کیلئے تیارہوں، اگر دونوں لیڈر کہتے ہیں کہ کچھ نکات پر ہم ایک ہیں تو میں بہت اچھا ثالث ہوں گا، ناکام نہیں ہوں گا۔ میں بہت اچھی مدد دوں گا لیکن شرط یہی ہے کہ اگر دونوں فریق راضی ہوتے ہیں تو ہی یہ ممکن ہو سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سوال پر کہا کہ ‘میں چاہتاہوں کہ ہر ایک سے برابر کا سلوک کیاجائے، انہوں نے گزشتہ روز اسٹیڈیم میں جلسے کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی زبان کو سخت اور جارحانہ کہا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن میرے نمبر ون دوست ،اسمارٹ اور ٹف ہیں، ایران کی جوہری ڈیل کی معیاد ختم ہونے والی تھی اور بورس جانسن دوسری ڈیل چاہتے ہیں، ایرانی جوہری ڈیل کیلئے خرچ کی گئی رقم ضائع ہوگئی، ایران کے ساتھ یہ کس طرح کی ڈیل تھی کہ ہمیں اس کے معائنے کی اجازت نہیں تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘ایران کو بیلسٹک میزائل اور دیگر چیزوں کی آزمائش کی بھی اجازت تھی، میں بورس جانسن کی بہت عزت کرتا ہوں وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے نئی ایرانی ڈیل کی بات کی۔

ٹرمپ نے کہا کہ ‘میں وزیراعظم عمران خان اور پاکستان پر اعتماد کرتاہوں، نیویارک میں بہت اچھے پاکستانی دوست بھی ہیں جو اچھے مذاکرات کار ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ‘مجھ سے قبل امریکی قیادت نے پاکستان سے اچھا سلوک نہیں کیا، وزیر اعظم عمران خان اور بھارتی وزیراعظم سے بہت اچھے تعلقات ہیں۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے درخواست کی کہ وہ بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھانے کا مطالبہ کریں جس پر امریکی صدر نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ وہ کشمیر سے کرفیو اٹھانے کے لئے بھارتی وزیراعظم سے بات کریں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے طاقتور ترین ملک کے سربراہ ہیں اور ان پر اس حساب سے زیادہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ وہ افغان مسئلے پر بھی امریکہ سے بات کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ مسئلہ بھی پاکستان کے لئے انتہائی اہم ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھی چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ اگر دوطرفہ نہیں تو ثالثی سے ہی حل ہو جائے لیکن بدقسمتی ہے کہ بھارت ہم سے بات کرنے کو تیار ہی نہیں ہے۔

اس سے قبل عمران خان نے امریکی کونسل فار فارن ریلیشنز سے خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان نے نائن الیون کے بعد امریکا کی جنگ میں شامل ہوکر بہت بڑی غلطی کی۔ جب 2008 میں امریکا آیا تو ڈیموکریٹس کو بتایا تھا کہ افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار لوگوں نے جانیں قربان کیں، 200 ملین ڈالرز کا نقصان ہوا۔

عمران خان نے کہا کہ سوویت فوج نے افغانستان میں جنگ کے دوران 10 لاکھ شہریوں کو ہلاک کیا، پاکستان میں 27 لاکھ افغان پناہ گزین رہ رہے ہیں۔