اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھارت سے 5 مطالبات کردیے ہیں، سب سے پہلا مطالبہ ہے کہ بھارت کشمیریوں سے ان کے جینے کا حق نہ چھینے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا اجلاس جنیوا میں ہوا جس میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان کی نمائندگی کی۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں شرکت

انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت نے 6 ہفتوں سے حریت قیادت کو نظر بندکررکھا ہے، بھارت مقبوضہ وادی میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتاہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بری جیل بنادیا ہے، وادی میں مسلسل کرفیو کے باعث خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کا معاملہ بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے، بھارت کا یہ دعویٰ غلط ہے، کشمیر کے لوگوں کو بغیر کسی وجہ کے گرفتار کیا جارہا ہے، بھارت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتےہوئےکلسٹر اور ہیوی بموں کا استعمال کیا، بھارت اپنے مظالم چھپانے کے لیے کشمیریوں کی جدوجہد آزاد کو دہشتگردی کا رنگ دے رہا ہے، بھارتی قابض افواج کے تشدد سے زخمی افراد کو ہنگامی طبی امداد تک میسرنہیں۔

انسانی حقوق کونسل کے مشترکہ اعلامیہ سے متعلق شاہ محمود قریشی نے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پاکستان اور کشمیریوں کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ کشمیر کے مسئلے پر سب ممالک ایک ہیں، انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کونسل کے سامنے پاکستان اور کشمیریوں کا مقدمہ پیش کیا اور ہمیں مشترکہ بیان دینے میں کامیابی نصیب ہوئی۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ مشترکہ بیان میں 58 ملکوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر 5 مطالبات کا ذکر کیا اور مشترکہ بیان میں بھارت سے کہا گیا کہ وہ کشمیریوں سے جینے کا حق نہ چھینے۔ ان کے مطابق مشترکہ بیان میں بھارت سے کہا گیا کہ وہ کشمیریوں کی آزادی اور انکی حفاظت کو متاثر نہ کرے، مقبوضہ کشمیر سے کرفیو فوری اٹھائے اور کمیونکیشن شٹ ڈاؤن بحال کرے۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ مشترکہ بیان میں بھارت سے کہا گیا کہ وہ مقبوضہ  کشمیر میں قید کئے جانے والے تمام سیاسی قیدی رہا کرے، کشمیر میں اسکی طرف سے جاری طاقت کا اندھا استعمال اور ظلم و بربریت فوری ختم کرے۔

انہوں نے بتایا کہ مشترکہ بیان میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا کو مقبوضہ کشمیر میں رسائی دینے اور انسانی حقوق کمیشن آفس کی سفارشات پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔