سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے نام ایک خط لکھا ہے، انکا کہنا ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کی بالادستی اور تقدس کی خاطر ذمہ داری کے احساس کے ساتھ یہ کھُلا خط آپ کے نام ارسال کررہا ہوں۔

انہوں نے لکھا ہے کہ وہ نجی ملاقاتوں، سرکاری گفتگو کے دوران اور ایوان کے اندر انفرادی اور اجتماعی طورپرمیں سپیکر کے دفتر پر زوردیتے رہے ہیں کہ اُن تمام ارکان قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کی ضرورت ہے جو جیل یا کسی دیگر حراست میں ہیں لیکن کوئی اثر نہیں ہوا۔

سابق وزیراعظم کے سپیکر قومی اسمبلی کو لکھے گئے خط کا پہلا ورق

سابق وزیراعظم کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کا رکن عوام کا  نمائندہ ہوتا ہے اور اسکو یہ استحقاق حاصل ہے کہ ایوان کی کاروائی میں شریک ہونے کے بنیادی حق کوبروئے کار لائے اور اپنے حلقے کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کوپیش کرے۔ ایوان کے محافظ کے طورپر سپیکر قومی اسمبلی کی یہ بنیادی اور دستوری ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف تمام ارکان کی بغیر کسی رکاوٹ ایوان میں حاضری کو لازمی بنائیں بلک اس امر کو بھی یقینی بنائیں کہ ان کی حاضری کی راہ میں اگر کوئی رکاوٹ حائل ہے، تو اسے بھی دور کریں۔

سابق وزیراعظم کے سپیکر کو لکھے گئے خط کا دوسرا ورق

سابق وزیراعظم نے سپیکر آفس کو قیدی ارکان کی ایوان میں حاضری یقینی بنانے اور بروقت غیر متعصبانہ پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی ذمہ نبھانے میں ناکام قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنی مثال بھی سپیکر کے سامنے رکھی ہے کہ سپیکر آفس نے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے لئے ان کے بارے کیا رویہ اور انداز اپنایا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کا آخری اجلاس مورخہ 29 جولائی 2019ءکو بلایاگیا تھاجبکہ میرے پروڈکشن آرڈرز 5 اگست 2019 کو جاری ہوئے۔اسی طرح مشترکہ اجلاس 6 اگست 2019کوبلایاگیاجبکہ میرے پروڈکشن آرڈر ز7 اگست2019کو شروع ہونے والے دوسرے اجلاس کے بعد مجھے موصول ہوئے۔ میں نے ان دونوں معاملات پر آپ کے دفتر کو خط بھیجا جس کا مجھے جواب نہیں ملا۔

ایوان کے محافظ ونگہبان کے طورپر سپیکر قومی اسمبلی کے اقدامات کو بذات خود بولنا چاہئے۔ قومی اسمبلی کے قواعد وضوابط اس ضمن میں سپیکر کو مکمل رہنمائی فراہم کرتے ہیں کہ قیدی ارکان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرکے کیسے ایوان کی کاروائی میں ان کی حاضری میں سہولت فراہم کریں ؛ یہ ہدایت نہ تو ارکان کو ایوان کی کاروائی میں حصہ لینے کے ان کے حق سے محروم کرنے کے لئے استعمال ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس اختیار کو امتیازی یا متنازعہ انداز میں استعمال کیاجاسکتا ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر پر زور دیا ہے کہ بلا امتیاز ایوان کے تمام قیدی ارکان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کریں تاکہ وہ ایک حق اور استحقاق کے طورپرایوان کی تمام سرگرمیوں اورامور کار میں حصہ لیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ وہ پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے باوجود ایوان کی کاروائی میں تب تک حصہ نہیں لیں گے جب تک کہ تمام قیدی اراکین اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کئے جاتے جو انکا آئینی حق ہے۔