مشیر صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد ایف بی آر سے نالاں، کہتے ہیں ایف بی آر نے ہر جگہ ٹیکس لگایا ہوا ہے، اینٹی ایکسپورٹ اقدامات سے ایکسپورٹ نہیں بڑھ رہی، امپورٹ ڈیوٹی ختم ہونی چاہیے۔ معاملہ وزیر اعظم کے سامنے اٹھاؤں گا۔

سینٹ کی قائمہ کمیٹی صنعت و تجارت کا اجلاس سینیٹر مرزا محمد آفریدی کی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس میں حکومت سندھ اور پنجاب کیطرف سے درآمدات و برآمدات پرانفراسٹرکچر سیس نافذ کرنیکا معاملہ زیر بحث آ یا۔

مشیر صنعت و تجارت عبد الرزاق داؤدنے سینٹ کی قائمہ کمیٹی تجارت کو بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا ہے کہ درآمدکنندگان پر سندھ اور پنجاب میں الگ الگ نفراسٹرکچر سیس کی وصولی کا معاملہ وزیراعظم سے اٹھایا جائے گا۔ سیس لگنے سے کاروباری لاگت بہت بڑھے گی، اینٹی ایکسپورٹ اقدامات سے ایکسپورٹ نہیں بڑھ رہی،امپورٹ ڈیوٹی ختم ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے ہر جگہ ٹیکس لگا رکھے ہیں، برآمدی مصنوعات کے خام مال کی درآمد پر بھی ایک فیصد یہ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے،اس ٹیکس کے نفاذ سے مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

مشیر صنعت و تجارت نے کہا کہ پاکستان افریقی ممالک میں ٹریکٹرز برآمد کررہا ہے، انگولا ملک کیساتھ 5 ہزار ٹریکٹرز ایکسپورٹ کرنے کے ایم او یو پر دستخط ہوئے ہیں، اسکے علاوہ پاکستان یورپی ممالک میں دس ہزار واٹر ڈسپنسر ایکسپورٹ کریگا، انجنئیرنگ کا سامان ایف ٹی اے کے تحت چین برآمد کیا جائیگا،

انہوں نے بتایا کہ جولائی میں ملکی برآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ہوم ٹیکسٹائل کی برآمدات میں 17 فیصد، نیٹ وئیر کی برآمدات میں 19 فیصد ہوا جبکہ یان کی درآمدات میں 19 فیصد کمی ہوئے اور گرے کلاتھ امپورٹ میں 22فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

تاجر نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت مواصلات نے سیس سے ایک اور بڑا مسئلہ ایکسل لوڈ کا ڈال دیا ہے،ایکسل لوڈ کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کی قیمت بڑھ گئی ہے، چئرمین قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ ایکسل لوڈ اور سیس کے معاملے پر مشیر تجارت شراکت داروں کا اجلاس بلائیں اور کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں