اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) میں 23کروڑ 90 لاکھ روپے کے غبن کا انکشاف ہوا ہے جس  میں آر او ون محمد نعیم سمیت دیگر اہلکار ملوث ہیں، 1 دن میں 4کروڑ 30 لاکھ روپے غائب کئے گئے، بینک کی جعلی مہریں بل وصولی کیلئے استعمال کی گئیں۔ کیس کی تحقیقات ایف آئی اے کررہی ہے، 2 آئیسکو ملازمین کو برطرف اور دیگر کو معطل کیا گیا ہے، آر او ون نعیم ایف آئی اے کی حراست میں ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پاور کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فدا محمد کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں پرنٹ میڈیا میں چھپنے والی خبرجس میں آئیسکو کے بلنگ کے شعبے میں ہونے والی مبینہ غبن بارے بریفنگ سمیت ٹیسکو اور کیسکو کی بجلی کی طلب و رسد بارے بریفنگ بھی دی گئی۔

فائل فوٹو: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پانی و بجلی کا اجلاس، چئیرمین سینیٹر فدا محمدصدارت کر رہے ہیں

اجلاس کے دوران سی ای او آئیسکو شاہد اقبال نے بتایا کہ آئیسکو میں ایک بڑا فراڈ پکڑا گیا، 1 دن میں 4کروڑ 30 لاکھ روپے کا گھپلہ سامنے آیا، اس میں آر او ون ملوث تھا، جعلی بینک کی مہریں بنا کر بلنگ سسٹم میں ڈال دیا جاتا ہے، یہ غبن 3سال سے جاری ہے۔

کمیٹی نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 3سال سے یہ گھپلے ہورہے تھے آئیسکو کیا کررہا ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری وزارت پاور ڈویژن منیر اعظم نے کمیٹی کو بتایا کہ اب 23کروڑ 90 لاکھ روپے کا کل غبن اب تک سامنے آیا ہے۔

سی ای او آئیسکو نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ معاملہ ایف آئی اے کو بھیجا گیا تھا جس کے نتیجے میں آئیسکو ملازمین کو نوکری سے معطل کیا گیا ہے، آر او ون محمد نعیم اس گروپ کی سربراہی کررہا تھا وہ حج پر گیا تھا حج سے واپسی اس کو پشاور ائیرپورٹ سے گرفتار کیا گیا، اس میں ملوث خالد محمود کمرشل اسسٹنٹ اور وقاص جاوید سویپر کو نوکری سے فارغ کردیا گیا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صارفین سے 10کروڑ روپے کی ریکوری کی گئی ہے۔

کمیٹی رکن نعمان وزیر خٹک نے کہا کہ آڈیٹر جنرل آفس کو اگلے اجلاس میں بلایا جائے کہ آخر وہ کس طرح کا آڈٹ کرتے ہیں، بیلنس شیٹ سے سب پتہ چل جاتا ہے، اپنے سسٹم کو ڈیجیٹل کریں ایف بی آر پرال کے ذریعے ٹیکس اکٹھا کرتا ہے، وزارت توانائی کو پرال سے بات کرنی چاہیے۔

کمیٹی رکن سراج الحق کا کہنا تھا کہ ایک شخص 43 ملین ایک دن میں کما سکتا ہے تو وہ اس معاشرے کا سب سے قابل شخص ہے، اس افسر کو بلایا جائے اس سے پوچھا جائے۔

کمیٹی چیئرمین فدا محمد نے کہا کہ ایک باہر کے فرد نے آپ کو آکر بتایا کہ یہ فراڈ ہورہا ہے، 3سال سے آئیسکو نے کیا کیا ہے ؟ گھر میں بندہ چوکیدار رکھتا ہے ایک دن میں اس کا پتہ چل جاتا ہے کہ وہ ایماندار ہے یا نہیں ہے۔

کمیٹی نے گزشتہ 10سال کی بلنگ کی تفصیلات طلب کیں جبکہ افغان مہاجرین کے واجبات کی تفصیلات 15 دن میں جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ کمیٹی نے اگلے اجلاس میں افغان ریفیوجی کمشنر کو بھی طلب کرلیا۔ ایڈیشنل سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ لیسکو اور آئیسکو میں اے ایم آئی میٹرز لگائے جائیں گے۔

سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے کہا اے ایم آئی میٹرز پر پیسے ضائع نہ کریں،اس سے کنڈا سسٹم پر قابو نہیں پایا جا سکتا ہے، اے بی سی کیبل سے کنڈا سسٹم پر 99 فیصد قابو پایا جاسکتا ہے، یہاں ایک سینیٹر نے ایک غریب عورت کا میٹر لگانے کیلئے 6دفعہ فون کیا ہے، 1سال سے وہ غریب عورت کنکشن لگانے کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔