پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک بار پھر کشمیر کے معاملے پر کشمیر کا ساتھ دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا ایسا کوئی اقدام قبول نہیں جو کشمیریوں کے حق خودارادیت کے منافی ہو۔

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم جس خطے میں رہتے ہیں ہمیں وہاں کے حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے، عالمی طاقتوں کے مفادات اس خطے سے وابستہ ہیں اور پاکستان کو نظرانداز کر کے عالمی طاقتوں کے مفادات پورے نہیں ہو سکتے۔

کشمیر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے لیکن بھارت نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں تیز کر دی ہیں۔ کشمیریوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے اور بھارت کے اپوزیشن رہنما کو مقبوضہ کشمیر بھی جانے سے روک دیا گیا، بھارت چاہتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی ایسی بدلی جائے کہ مسلمانوں کا وہاں رہنا مشکل ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنی پہلی تقریر میں بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کی لیکن پاکستان کی مخلصانہ مذاکرات کی پیشکش کے جواب میں بھارت نے جہاز بھیجے، بھارت کے بھیجے گئے جہاز کا کیا حال ہوا وہ سب آپ کے سامنے ہے۔ بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزی ہو سکتی ہے لیکن بھارت کو 27 فروری کی حرکت یاد رکھنی چاہیے، بھارت نے کوئی حرکت دہرائی تو اسکوارڈن لیڈر حسن اور نعمان موجود ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دو نیوکلیئر طاقتوں کے درمیان جنگ کی گنجائش نہیں ہوتی لیکن مقبوضہ کشمیر میں جو بھارت نے کیا ہے وہ ایک نئی جنگ کا بیج بو رہا ہے، جنگیں صرف ہتھیاروں اور معیشت سے نہیں لڑی جاتیں۔ مقبوضہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں میں ہے اور ہم پاکستان نے ہمیشہ چاہا کہ مسئلہ کشمیر پُر امن طریقے سے حل ہو۔

ترجمان پاک فوج نے ایک بار پھر اس عزم کو دہرایا کہ کشمیر ہماری شہہ رگ ہے، بہادر کشمیریوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں، کشمیر کے معاملے پر کسی ڈیل یا سودے بازی کا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں۔ کشمیر کے معاملے پر کسی بھی انتہا تک جائیں گے، چاہیے اس کے لیے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔

ایک سوال کے جواب میں ترجمان پاک فوج نے کہا کہ جوہری صلاحیت کی باتیں جلسے جلوسوں میں کرنے کی نہیں ہوتیں، بھارت کو سمجھنا چاہیے کہ ہم اسے ہی اصل خطرہ سمجھتے ہیں۔ مشرقی سرحد پر کچھ بھی ہوتا ہے ہماری ساری توجہ صرف ادھر ہی ہو گی، عوام چاہتی ہے کہ انہیں پتا چلے کیسے جواب دیا جائے گا، موجودہ حالات میں قوم کو ایک ہونے کی ضرورت ہے اور ایک ہے۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ تمام باتیں من گھڑت ہیں کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے 125 جرنیلوں کی پروموش رکی ہے، یہ سب یوٹیوب کی آوازیں ہیں، ایسا کچھ نہیں ہے، ایک کے بدلے ایک ہی پروموشن ہوتی ہے۔ ہم ایک پیشہ ور فورس ہیں، حکم کی تعمیل اور سسٹم کے تحت کام کرتے ہیں، آرمی چیف جس طرف دیکھتے ہیں فوج اس طرف دیکھتی ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہمارا ایک پڑوسی افغانستان ہے جہاں 40 برس سے جنگ ہو رہی ہے، افغانستان والوں نے 40 برس میں جنگ، قربانیوں، اور شہادتوں کے سوا کچھ نہیں دیکھا، ہم نے افغانستان میں امن کے لیے اپنا بھروپور کردار ادا کیا اور ابھی جو امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں اس میں بھی پاکستان کا کردار ہے۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ کہ چین کی معیشت کا بھی خطے میں اہم کردار ہے جب کہ ایران کی بارڈر فورس کے ساتھ ہمارے تعلقات میں بہتری آئی ہے اور ایران کے ساتھ جڑی سرحد پر فینسنگ کی جا رہی ہے۔

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس حوالے سے چلنے والی تمام خبریں من گھڑت ہیں۔

جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ترجمان پاک فوج نے پاکستان کی جوہری ہتھیار استعمال کرنے میں پہل نہ کرنے کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ ہمارے ہتھیار دشمن کو باز رکھنے کے لیے ہیں، اس حوالے سے جو کچھ ہو گا وہ ریاست کی پالیسی کے مطابق ہو گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کو کلبھوشن جادھو تک رسائی پانچ شرائط کے تحت دی۔ بھارت نے پہلے انکار کیا پھر شرائط قبول کرلیں۔

پاک فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ اسامہ بن لادن کا پتا لگانے میں پہلی کال پاکستان نے ٹریس کی تھی، ٹیلیفون کال ٹریس کر کے امریکا سے تفصیلی انٹیلی جنس شیئرنگ کی۔ امریکا نے مشترکہ آپریشن کی بجائے خود اسامہ کے خلاف آپریشن کیا،امریکا نے انٹیلی جنس شیئرنگ کے بعد پاکستان سے دھوکے بازی کی۔