الیکشن کمیشن میں مریم نواز کو ن لیگ کی نائب صدارت سے ہٹانے کی درخواست پر سماعت ہوئی تو پی ٹی آئی کے وکیل حسن مان نےدلائل دیتے ہوئے کہا سپریم کورٹ واضح طور پر کہ چکی ہےنااہل اور سزا یافتہ شخص پارٹی صدارت نہیں رکھ سکتا، سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ کی شق 203 کو آرٹیکل 62 ، 63 اور 63 اے کے ساتھ ملا کر پڑھنے کا کہا ہے، الیکشن ایکٹ کی شق 203 پارٹی عہدہ سے متعلق ہے.

پی ٹی آئی کے وکیل نے بتایا الیکشن کمیشن پی ٹی آئی سنٹرل پنجاب کے صدر رائے حسن نواز کو انہیں گراؤنڈز پر نااہل کرچکا ہے لہٰذا مریم نواز بھی سزا یافتہ ہیں پارٹی عہدہ رکھنے کےلئے اہل نہیں ہیں۔

مسلم لیگ ن کے وکیل جہانگیر جدون نے دلائل دیے کہ درخواست گزار مریم نواز کی تقرری سے متاثرہ فریق نہیں ہے، مسلم لیگ ن کے الیکشن چیلنج ہونے پر سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہے۔ اس کیس میں پارٹی الیکشن چیلنج ہوا تھا جبکہ یہاں بات ایک شخصیت کے تقرر کی ہو رہی ہے۔

مریم نواز کے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ نے دلائل دیے کہ آئین کی کسی شق کو قانون کے ساتھ ملا کر نہیں پڑھا جائے، پارٹی کا حصہ بننا، عہدہ رکھنا کسی شخص کا بنیادی حق ہے۔ آرٹیکل 62،63 اور 63 اے کو الیکشن ایکٹ کی شق 203 کے ساتھ نہیں پڑھا جاسکتا۔ وکیل مریم نواز نے دلائل دیے کہ کسی بھی عدالت کے پرانے فیصلوں کے مطابق فیصلے کرنا الیکشن کمیشن کےلئے لازم نہیں

 الیکشن کمیشن نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد مریم نواز کو پارٹی نائب صدارت سے ہٹانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔