سی ٹی ایف اہلکاروں کی فائرنگ سے پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کے واقعہ کا ڈراپ سین، اسلام آباد پولیس کے افسران کی ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آ گئی۔

اسلام آباد ایکسپریس وے پر سی ٹی ایف اہلکاروں کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کے واقعے کا ڈراپ سین ہو گیا ہے۔ زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں نے افسران بالا کو درخواست دی ہے کہ فائرنگ میں ملوث سی ٹی ایف اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کاروائی کی جائے تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات سے بچا جا سکے۔

زخمی اہلکاروں نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ انہیں یکم ستمبر کو ایس ایچ او تھانہ گولڑہ کی طرف سے حکم آیا تھا کہ انہیں فیض آباد پولیس چوکی پہ  دہشتگردی کے خلاف ریہرسل میں حصہ لینا ہے جس کے لئے وہ پمز ہسپتال کے قریب اسلام آباد ایکسپریس وے پر یوٹرن لے رہے تھے کہ انہیں ٹریفک پولیس نے روک لیا۔

زخمی پولیس اہلکار کی جانب سے دی گئی درخواست کا عکس

زخمی پولیس اہلکار کی درخواست کا عکس

زخمی اہلکاروں کے مطابق جب وہ سائیڈ پر گاڑی پارک کرنے لگے تو دوسری طرف سے سی ٹی ایف اہلکاروں کی گاڑی آئی اور آتے ہی ان پر فائرنگ شروع کر دی۔

زخمی اہلکاروں نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ فائرنگ کرنے والے اہلکار دونوں زخمی اہلکاروں سے ایک کو جانتے تھے، ہم چیختے رہے کہ یہ ریہرسل ہو رہی ہے اور ہم پولیس ملازم ہیں لیکن پہچاننے کے باوجود سی ٹی ایف اہلکاروں نے ہمیں سڑک پرجانوروں کی طرح گھسیٹا اور مارا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ سی ٹی ایف اہلکاروں نے گاڑی کے ٹائروں پر برسٹ مارنے کی کوشش کی، زخمی حالت میں وہ منتیں کرتے رہے کہ انہیں ہسپتال پہنچایا جائے بالآخر کافی دیر بعد سی ٹی ایف اہلکاروں نے ان کی جان بخشی کی اور انہیں ہسپتال پہنچایا۔

زخمی ہونے والے اہلکاروں نے افسران بالا سے سی ٹی ایف اہلکاروں کی اس غفلت کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور درخواست کی ہے کہ ان کے خلاف محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات سے بچا جا سکے

یکم ستمبر کے واقعے کی فوٹیج کے لئے نیچے کلک کریں