چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں سعودی عرب کی آئل تنصیبات پر حملے کے معاملے پر امریکہ اور ایران کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جامع تحقیقات کے بغیر الزام تراشی کرنا غیر ذمہ دارانہ ہے اور چین کشیدگی بڑھانے کے کسی بھی اقدام کی مخالفت کرتا ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل سعودی عرب کی آئل ریفائنری آرامکو کے عبیق اور خریص پلانٹس پر ڈرون حملے کئے گئے تھے جس سے دنیا کو تیل کی سپلائی کم ہو گئی تھی۔

ڈرون حملوں کی ذمہ داری حوثی باغیوں نے قبول کی تھی تاہم امریکہ نے حوثی باغیوں کے ملوث ہونے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے ایران کو ان حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا ہےکہ سعودی عرب کی جانب سے جواب کا انتظار ہے امریکی افواج جوابی کاروائی کے لئے بالکل تیار بیٹھی ہیں۔

سعودی عرب کی آئل تنصیبات پر حملے کی مذمت پاکستان کی طرف سے بھی جاری کی گئی تھی۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکہ نے حملوں کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا ہے جبکہ ایران اس الزام کو مسترد کر چکا ہے لہٰذا فریقین کو تحمل اور بردباری سے کام لینا چاہئے