دنیا میں پہلی 347 سائنسدانوں کی ٹیم جو ہارورڈ کے سمتھ سونین سینٹر فار آسٹرو فزکس کے ماہرین تھے نے 10 سال کے طویل عرصے تک اس بلیک ہول کی تصویر کھینچنے کیلئے جدوجہد جاری رکھی بالآخر وہ اس میں کامیاب ہوئے۔

یہ وہ بلیک ہول ہے جو زمین سے 55 ملین نوری سال کے فاصلے پر ہے اور اسکی تصویر کے حصول میں سب سے اہم کردار نوجوان امریکی خاتون سائنسدان کیٹی باومن نے ادا کیا تھا جسکے تیار کردہ ایلوگرتھم کی مدد سے ماہرین یہ تصویر کھینچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

برطانوی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کی اس ٹیم کو سائنس کا سب سے بڑا انعام دیا جائے گا جسے سائنس کی دنیا کا آسکر ایوارڈ بھی کہا جاتا ہے۔

برطانوی رپورٹ کے مطابق 3 ملین ڈالرز کا یہ انعام بنیادی فزکس میں بریک تھرو کا انعام ہے جسے حاصل کرنے والی ٹیم نے 10 اپریل کو ایونٹ ہورائزن ٹیلی اسکوپ کی مدد سے تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک بہت بڑے بلیک ہول کی تصویر کھینچنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔