تحریر: عمر حیات خان

Email: umar0010@gmail.com

افغانستان میں گزشتہ 4دہائیوں سے جنگ وجدل ہے، سوویت یونین کے انخلاء کے بعد متحارب گروہوں کی آپس کی خانہ جنگی نے افغانستان کو مزید تباہ کردیا تھا، 1996 میں کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد 90 فیصد افغانستان پر طالبان کی عملداری رہی، افغانستان میں طالبان کی جانب سے شریعت کا نفاذ کیا گیا تو پوری دنیا میں ان کے طرز حکومت کا ڈنکا بجنے لگا، گرچہ طالبان دور میں تعلیم اور جدیدیت پر زور نہیں دیا گیا مگر جو جس طرح وہاں امن قائم ہوا عوام کا طالبان پر اعتماد بڑھتا رہا۔ امریکہ نے صدر بل کلنٹن کے دور حکومت میں یعنی سال 1998 میں افغانستان پر کروز میزائل داغے جس کا نشانہ امریکہ کو مطلوب اسامہ بن لادن تھا جس میں اسے کامیابی نہیں ملی۔ 9/11 کے بعد امریکہ نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کا ذمہ دار ایک مرتبہ پھر اسامہ بن لادن کو ٹھہرایا اور یوں اکتوبر 2001 میں امریکہ نے باقاعدہ افغانستان پر حملہ کیا، امریکہ میں بش جونیئر اس وقت صدارت کی کرسی پر براجمان تھے۔ افغانستان میں امریکی حملے کے بعد سے لیکر اب تک امریکی افواج وہاں موجود ہیں۔

امریکی بمباری سے افغانستان میں تباہی کا منظر: فوٹوبشکریہ گلوبل ویلج اسپیس

2004 میں امریکہ کی جانب سے افغان بارڈر سے منسلک پاکستان کے قبائلی علاقے ڈمہ ڈولہ کے ایک مدرسے پر میزائل داغے جس میں 80 سے زائد مدرسے کے طالب علم جاں بحق ہوئے اور یوں پاکستان میں اس کے بعد دہشت گردی کے واقعات شروع ہوئے جو 2018 تک مسلسل جاری رہے۔یوں امریکہ کی افغانستان میں جنگ پاکستان کی جنگ بن گئی۔ ملک کے قبائلی علاقوں سمیت بندوبستی علاقوں میں بھی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مختلف آپریشن کئے ۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے 70 ہزار سے زائد شہریوں نے اپنی جان کی قربانی دی اور محتاط اندازے کے مطابق 130 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

ایک طرف حکومت پاکستان اور دوسری جانب امریکی افواج کی جانب سے بھی قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ڈرون طیاروں کے ذریعے حملے کئے جاتے رہے۔ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق امریکہ کی جانب سے پاکستان کے شمال مغربی صوبے سے متصل قبائلی علاقوں جو کہ اب خیبر پختونخوا کا حصہ ہیں پر جنوری 2004 سے اب تک 409 ڈرون حملے ہوچکے ہیں جن میں 2 ہزار 714 افراد ہلاک اور 728 افراد زخمی ہوئے۔ زیادہ تر حملے پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت (2012-2008) میں ہوئے. 336 فضائی حملے ہوئے جن میں 2 ہزار 282 افراد کی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ 658 افراد زخمی ہوئے. 2010 میں ہی 117 حملے ہوئے جس کے نتیجے میں 775 افراد ہلاک اور 193 افراد زخمی ہوئے. پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت (2018-2013) کے درمیان 65 ڈرون حملے ہوئے جن میں 301 افراد ہلاک اور 70 زخمی ہوئے۔

امریکی افواج کی بمباری سے افغانستان کی صورتحال: فوٹو بشکریہ نیویارک ٹائمز

پاکستان میں جو بھی حکومت آئی اس حکومت نے امریکہ بہادر کو یہ باور کرایا کہ افغانستان میں مسئلہ کا سیاسی حل تلاش کیا جائے پاکستان نے اس ضمن کئی مرتبہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کیلئے ثالث کا کردار ادا کیا ۔ مری سمیت قطر میں بھی دونوں فریقوں کو آمنے سامنے بٹھایا اسی اثناء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے لئے ثالث بننے کی درخواست کی کیونکہ امریکہ افغانستان سے نکلنے کیلئے محفوظ راستہ تلاشنا چاہتا تھا۔ کئی دور مذاکرات کے بعد وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حالیہ دورہ امریکہ میں بھی اس مسئلے پر بات چیت ہوئی جس کے بعد مذکرات میں تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔

قطر میں ہونے والے طالبان امریکہ مذاکرات کا عکس: فوٹو بشکریہ وائس آف امریکہ

امریکا اور طالبان کے دوران پہلا براہ راست رابطہ جولائی 2018 میں ہوا جب امریکی حکام نے خفیہ طور پر قطر میں طالبان رہنماؤں سے ملاقات کی۔امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے 9 دور ہوئے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اچانک مذاکرات منسوخ کرنے کے اعلان نے معاملات کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللّٰہ کی جانب سے کہا گیا کہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت سامنے آرہی ہے۔مذاکرات کی منسوخی کا براہ راست نقصان امریکہ کو ہوگا۔رواں ماہ زلمے خلیل زاد نے اعلان کیا کہ امن معاہدے کا مسودہ طے پا گیا ہے جس کی صدر ٹرمپ سے حتمی منظوری کا انتظار ہے تاہم گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے کابل میں حملے کو جواز بنا کر طالبان کے ساتھ مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔ صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد خطے کی صورتحال ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔طالبان نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد مزید امریکی افغانستان میں مارے جائیں گے۔ افغانستان کے مسئلے کا سیاسی حل تلاش کئے بغیر وہاں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ افغانوں کی سرشت میں یہ شامل ہے کہ وہ کسی حملہ آور کو برداشت نہیں کرتے جلد یا بدیر امریکہ کوبھی سوویت یونین کی طرح وہاں سے نکلنا پڑے گا۔