پیپلزپارٹی دور حکومت کا مالی بے ضابطگی کا ایک بڑا اسکینڈل سامنے آ گیا ہے کھربوں روپے کے سکینڈل کا آڈٹ کرنے والے حکام بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 1985 سے 2012 تک 500 روپے کے ایک ارب 30 کروڑ نوٹ چھاپے جا چکے ہیں۔

ان نوٹوں کو 2012 تک کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی کہ بینکوں کو واپس کر دیا جائے اور انکی جگہ نئی کرنسی دی جائے گی۔ ڈیڈ لائن تک جمع کرانے گئے نوٹوں میں سے صرف 43 کروڑ کا ریکارڈ موجود ہے جبکہ 87 کروڑ نوٹو کا ریکارڈ تک موجود نہیں۔

آڈٹ حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ کھربوں روپے مالیت کے نوٹ جعلی کرنسی کے تبادلے میں استعمال ہو سکتے ہیں۔ آڈیٹر جنرل آفس نے سفارش کی ہے کہ اس معاملے کے ذمہ داران کو جلد تعین کیا جائے۔