کتاب: A lone long walk

مصنف: طاہر محمود

تبصرہ: جہاں گرد

*****

پہلا تعارف: اک سخت گیر فوجی

پہلا تاثر: شرارتی جہاں گرد 

پہلی ملاقات: انتہائی پیارا انسان 

طاہر صاحب سے پہلی بار جب بات ہوئی تو یہی لگا کہ جناب روایتی سخت گیر فوجی ہیں لیکن واٹس ایپ پہ جھلماتی لال شرٹ والی مسکراتی ہوئی تصویر کچھ اور ہی کہانی سُنا رہی تھی۔۔۔دماغ کہتا کہ کھڑوس فوجی ہے دل کہتا کہ نہیں یہ تو اپنے قبیلے کا فرد ہے۔۔۔دل اور دماغ اپنی اپنی بات پہ اڑے رہے اور پہلی ملاقات کا لمحہ آن پہنچا۔۔۔اور پھر خاکی وردی میں ملبوس شخص کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا محال تھا کہ وردی زیادہ حسین ہے یا وردی پہننے والا۔۔۔لیکن کچھ اور بھی تھا جو ہم دونوں میں مشترک تھا جسے میرا دل مجھے سمجھا رہا تھا لیکن دماغ دل کے سگنلز کو ڈی کوڈ نہیں کر رہا تھا۔۔۔اور پھر عقدہ کھلا کہ ہم دونوں کا قبیلہ واقعی ایک ہے۔۔۔جہاں گرد قبیلہ۔۔۔قلم قبیلہ۔۔۔پاکستان اور افواجِ پاکستان سے محبت کا قبیلہ! 

جی تو بات ہو رہی ہے A lone long walk کے مصنف جناب  طاہر محمود صاحب کی۔۔۔جوانتہا کے باکمال انسان ہیں۔۔۔مجھ میں اور طاہر صاحب میں جو اک بڑا فرق ہے وہ “صبر” ہے۔۔۔یہاں ہر چیز کی جلدی اور وہاں سکون ہی سکون۔۔۔میں تو اک لفظ بھی لکھوں تو بچوں کی مانند دل چاہتا ہے کہ سب کو دکھاؤں کہ دیکھو یہ میں نے لکھا ہے۔۔۔لیکن طاہر صاحب پوری کتاب لکھ کے بیٹھے ہوتے ہیں اور آپ کو چند سطریں بجھوا کے بڑی انکساری سے یہ کہیں گے کہ “یہ آپ کے زوق کی نظر میری اک کاوش”۔۔۔مجال ہے جو آپ کو یہ وہم بھی ہونے دیں کہ یہ اک کاوش مکمل کتاب ہے وہ بھی انگریزی زبان میں۔۔۔شاعر نے ان جیسوں کے لیے ہی لکھا ہے کہ

نہ پوچھ ان حرقہ پوشوں کی ارادت ہو تو دیکھ ان کو

یدِ بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں

طاہر صاحب کے بڑے پن کا اندازہ کیجیے کہ آج کے دور میں جہاں ہر شخص دوسرے پہ اپنے مرتبے کا رعب جھاڑنے اور اپنی اونچی زات تلے دبانے میں لگا ہے وہاں طاہر صاحب جیسے چند ہیرے بھی ہیں جو زات اور مرتبے کے بوجھ سے آزاد ہیں۔۔۔غور کیجیے گا لفظ آزاد لکھا ہے محروم نہیں۔۔۔اور یہ بڑے حوصلے کی بات ہوتی ہے کہ عالی مرتبہ ہوتے ہوئے اونچی زات رکھتے ہوئے بھی گمنام رہنا۔۔۔جہاں ہر شخص خاص ہونے کی تگ و دو میں ہو وہاں اک خاص الخاص کا عام بن کے رہنا بڑے ظرف کی بات ہے!

نقطہ وروں نے ہم کو سجھایا خاص بنو اور عام رہو

محفل محفل صحبت رکھو، دنیا میں گُم نام رہو

یہ کہانی ہے اک پہاڑ کی۔۔۔اک خوبرو اور ابھی تک لڑکے کی۔۔۔اک لڑکی کی۔۔۔سرخ گلابوں کی۔۔۔ادھوری محبت کی۔۔۔پوری وفا کی۔۔۔وطن سے عشق کی۔۔۔قربانی کی۔۔۔ تنہائی کی۔۔۔اور تنہا مسافت کی!

اگر آپ کو سرخ گلابوں سے عشق ہے۔۔۔آپ میں محبت کی ادھوری کہانیاں سننے کا حوصلہ ہے۔۔۔آپ عشق کے راہی ہیں۔۔۔دوسروں کی زندگیوں کو دیکھنے کی طلب رکھتے ہیں۔۔۔زیست کی تلخیوں کو محسوس کرتے ہیں۔۔۔زندگی کی حقیقت کو سمجھنا چاہتے ہیں۔۔۔موت کو قریب سے محسوس کرنا چاہتے ہیں۔۔۔تنہائی کو جاننا چاہتے ہیں۔۔۔زندگی کے نغمے سننا چاہتے ہیں تو اس کتاب کو ایک بار ضرور پڑھیے۔۔۔لکھاری کتنا بڑا ہے یا دور حاضر کے بڑے لکھاریوں کے ہم پلہ ہے یا نہیں اس بات سے قطع نظر صرف ایک بات کہ آپ اس کتاب کو شروع کریں گے تو پھر اختتام کیے بنا چین نہیں لے پائیں گے۔۔۔لکھاری کے بڑے ہونے کی یہی دلیل کافی ہے کہ وہ قاری کی انگلی تھامے اسے اپنے ساتھ محوِ سفر رکھے اور یہ خوبی آپ کو اس کتاب میں بدرجہ اُتم محسوس ہو گی۔

اس کتاب کو پڑھتے ہوئے بہت سے مقامات پہ آپ کو لگے گا کہ جیسے یہ آپ کی اپنی کہانی ہو۔۔۔کچھ ادھوری خواہشیں۔۔۔چند ناتمام دکھ۔۔۔بہت سی ان کہی باتیں۔۔۔بہت سے ان سنے لفظ۔۔۔وہ اشک جنہیں کبھی نین نکالا نہ ملا۔۔۔وہ خواب جو پلکوں کی دہلیز پہ مَر گئے اور جن کی لاشیں کرچیاں بن کے آنکھ کی پتلیوں میں چُب گئیں۔۔۔وہ محبتیں جنہیں منزل نہ ملی۔۔۔وہ عشق جنہیں راستے نگل گئے۔۔۔وہ فرض جو چاہت پہ بھاری رہے۔۔۔وہ قرض جو ادا ہو کے بھی ادا نہ ہوئے۔۔۔

ان کہانیوں کو پڑھتے ہوئے آپ کبھی روئیں گے کبھی مسکرائیں گے کبھی موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے ہوں گے اور کبھی پھر سے جی اٹھیں گے۔۔۔یہ کہانیاں فقط قصے نہیں ہیں۔۔۔یہ زندگی ہیں۔۔۔جینے کا حوصلہ ہیں۔۔۔فیصلے کی گھڑی میں بروقت درست فیصلہ لینے کی باتیں ہیں۔۔۔محبت اور فرض میں سے کسی ایک کے انتخاب کے وقت سب کچھ چھوڑ کے فرض کی پکار پہ لبیک کہنے کی لازوال داستانیں ہیں۔۔۔جن کا آغاز پہاڑ کی چوٹی پہ بیٹھے سوچوں میں غوطہ زن شخص سے ہوتا ہے جس کا ماننا ہے کہ “محبت ایک خوش طبع نشہ ہے جو خوف اور کھو دینے کے احساس کو فتح کرتا ہے” اور ان کا اختتام ان الفاظ پہ ہوتا ہے کہ “انکا انتخاب دھرتی ماں تھی”۔

اگر کبھی زندگی میں اللہ نے چاہا اور مصنف نے اجازت دی تو میری خواہش ہو گی کہ اس کتاب کا اردو ترجمہ لکھوں جس کا عنوان ہو گا۔۔۔تنہا مسافت!