آرٹسٹ سپورٹ فنڈ کا دوبارہ اجراءقابل تحسین عمل

کسی بھی معاشرے میں فنون لطیفہ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ آرٹسٹ معاشرے کے حساس مسائل کو اپنے فن کے ذریعے اجاگر کرتے ہیں اور ساتھ
ہی مسائل کے حل کی طرف توجہ بھی دلاتے ییں

فلم, ٹی وی ، ریڈیو ، تھیٹر ، میوزک ، ڈانس ، پینٹنگ ، خطاطی ، مجسمہ سازی
اور تکنیکی شعبہ جات سے اس وقت لاکھوں کی تعداد میں فنکار وابستہ ہیں۔

آرٹسٹ کی زندگی روشنیوں اور عوامی توجہ سے بھرپور ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنی پرفارمنس سے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرتے اور کبھی دل موہ لینے والی پرفارمنس سے دیکھنے والوں کی آنکھوں میں آنسو بھی جاری کر دیتے ہیں ۔

اپنی فنی زندگی میں فنکار لائم لائیٹ میں رہتا ہےاور بیک وقت لاکھوں روپے کمااور خرچ کر رہا ہوتا ہے۔ مہنگے کپڑے اچھی گاڑی ، مہنگا فون فنکار کی نازوانداز میں نہ صرف اضافہ کرتا ہیں بلکہ بہت سے لوگ ان کو فالو بھی کرتے
ہیں اور وہ ہی انداز اپنانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔

کہا جاتا ہے وقت ایک سا نہیں رہتاوہی فنکار جو شہرت کی بلندیوں کو چھوتی زندگی میں لاکھوں روپے کماتے اور ان کو اپنی شہانہ زندگی پر لٹا دیتے ہیں جب لائم لائیٹ سے باہر نکلتے ہیں تو اکثر وسائل کی کمی کے باعث کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور اُن کے لیے اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنا
بھی مُحال ہو جاتا ہے۔

مہدی حسن ، روحی بانو وہ مشہور نام ہیں جن کی زندگیاں ہمارے سامنے ہیں اور بہت سے ایسے فنکار جو اس شعبے میں نام بھی نہیں بنا سکتے اور اپنی زندگیاں بھی ان میں وقف کر دیتے ہیں ان کے حالات بدتر ہوتے ہیں اور زندگیوں سے لڑتے لڑتے وہ اس جہاں سے کوچ کر جاتے ہیں۔

ان ہی فنکاروں کی مسائل کو مددنظر رکھتے ہوے پنجاب حکومت کی جانب سے “ انتہاہی اہم قدم اٹھایا گیا ہے اور “آرٹسٹ سپورٹ فنڈ” کو دوبارہ شروع کیا گیا ہے ۔ فنڈ کی مدد سے صوبے بھر کےفنکاروں کی طرف سے درخواستیں وصول کی جائیں گی اور پھر ایک معقول ماہانہ معاوضہ ضرورت مند آرٹسٹوں کو دیا جائے گا جو وہ بآسانی بینک سے اےٹی ایم کے ذریعے نکلوا سکیں گے۔

بابر نیازی ملک کے نامور لوک فنکار ہیں اور اپنے والد کے نقشے قدم پر چلتے ہوے فن موسقی میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ فنڈ کا دوبارہ اجراء ایک اچھا قدم ہے جس سے فنکاروں کی مالی مدد ممکن ہو سکے گی ،اُن کے مطابق فنڈ کا اجرا بیک وقت پورے ملک میں ہونا چاہیے اور پنجاب حکومت کے ساتھ ساتھ دیگر صوبائی حکومتوں کو بھی فوری اقدامات کرنے چاہیے۔

بابر نیازی کے بڑے بھائی جاوید نیازی جو کسی تعارف کے محتاج نہیں کہتے ہیں” فنکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے مذید اقدامات کی بھی ضرورت ہے جیسے کہ اچھے ہسپتالوں میں مفت طبی سہولیات ،فنکاروں کے بچوں کی لیے بہترین سکولوِں میں تعلیمی مواقع اور وضائف ،رہائشی منصوبے اور معقول پینشن
شامل ہوں

نورین ذیشان

==========================================