چیف جسٹس: نئے ڈیم کا نام پاکستان ڈیم ہوگا

presentation homme site de rencontre http://yuktung.com.my/esnew/1739 چیف جسٹس ثاقب نثار نے ملک میں ڈیم کی تعمیر کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ ڈیم بنانے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں،آپ قوم کو بچائیں یا اپنے مفادات کو، ساتھ ہی انہوں نے کالا باغ کے بجائے نئے ڈیم کا نام پاکستان ڈیم قرار دے دیا۔

mujeres solteras antofagasta

http://www.amisdecolette.fr/?friomid=site-de-rencontres-ukraine&4e5=25 سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک عدالت میں پیش ہوئے اور ڈیم کی تعمیر کے حق میں دلائل دیئے

http://poloclubmiddennederland.nl/abouts-tus/ سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک نےکہا کہ دنیا میں 46 ہزار ڈیم تعمیر ہو چکے ہیں، چین میں 22 ہزار ڈیم بنائے گئے ہیں، چین ایک ڈیم سے 30 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے، بھارت 4500 ڈیم تعمیر کر چکا ہے۔ کالاباغ ڈیم کی تعمیر نہ ہونے سے سالانہ 196 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔

er sucht sie ludwigsburg اس موقع پر شمس الملک نے عدالت کو بتایا کہ بیگم نسیم ولی نے کہا اگرآپ ثابت کردیں کالاباغ ڈیم سونےجیساہےپھربھی نہیں بننےدیں گے، جبکہ سابق انجینئرواپڈاامتیازعلی نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان میں کالا باغ ڈیم جیسے کئی ڈیمز بننے چاہئیں، 1981 سے 1984 تک بھاشا ڈیم سمیت دیگرڈیمزکیلئےاسٹڈی بھی ہوئی،مگر کچھ نہ ہوسکا

source url چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان کی پانی کے بغیر بقا ممکن نہیں، اگر پاکستان ڈیم نہیں بنائے گا تو پانچ سال بعد پانی کی صورتحال کیا ہوگی، کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی سطح خطر ناک حد تک گر چکی ہے، ڈیمز بننے سے چاروں صوبوں کو فائدہ ہوگا، سوچ رہا ہوں عدالتی کام روک کر پانی کے مسئلے پر سیمینار کروائیں، پاکستان کی بقا کے لیے پانی اشد ضروری ہے۔

opzioni digitali per principianti con deposito basso چیف جسٹس نے کہا ہمیں ماہرین اور لوگوں کو اکٹھا کرنا پڑےگا، یہ ڈیم ہرصورت بنناہے، نہیں علم یہ ڈیم میری زندگی میں بنتا ہے یا نہیں، ڈیم کی تعمیر میں سب سے پہلے حصہ عدالت عظمیٰ ڈالے گی، قوم کو بچالیں یااپنے مفاد کو بچالیں، بات کالا باغ ڈیم کی نہیں بات پاکستان ڈیم کی ہے، چاروں بھائیوں کو ڈیمزکی تعمیر کے لیے قربانی دینا ہوگی، کالا باغ ڈیم نہ بنا تو کے پی کے کی بیشتر زمین کو پانی نہیں مل سکے گا، ہمیں ہنگامی اور جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا

چیف جسٹس نے کہا دس سال سیاسی حکومتیں رہی ہیں،ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے کچھ نہیں ہوا، سیاسی حکومتوں نے دس سال میں ڈیمز کی تعمیر کے لیے کیا کیا؟، ڈیم تو ہر حال میں بننا ہے، یہ بتائیں ڈیمز کن جگوں پر بنیں گے، جب تک مسئلے کا حل نہیں نکلتا میں نے جانے نہیں دینا، مجھے بندے بتائیں، ماہرین کے نام بتائیں، میں نے سب کو بلا کر اندر سے کنڈی لگا دینا ہے، ایک کمیٹی یا ٹیم تشکیل دینا پڑے گی، ڈیمز کے مسئلے پر عدالت عظمیٰ اپنی ٹیم تشکیل دے گی، ڈیموں کی تعمیر انا کی نذر ہوگئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *