طاہر القادری کا انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان

پاکستان عوامی تحریک کا انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کردیا ، ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا ہے کہ یہ نظام دھاندلی زدہ اورظلم زدہ ہے، عوامی حقوق کوکچلنے والے نظام کا نہ حصہ تھے نہ ہیں اور نہ بنیں گے۔

پاکستان عوامی تحریک سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عوامی تحریک آئندہ انتخابات میں حصہ نہیں لے گی، یہ نظام دھاندلی زدہ اورظلم زدہ ہے، کرپٹ کو تحفظ دیتا ہے، عوامی حقوق کو کچلنے والے نظام کا نہ حصہ تھے نہ ہیں اور نہ بنیں گے۔

ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ ایسےانتخابات پریقین رکھتے ہیں، جس میں آئین بالادست ہو، موجودہ انتخابی عمل کو جمہوریت نہیں سمجھتے، سانحہ ماڈل ٹاؤن کیا جمہوریت ہے؟

سربراہ پی اے ٹی نے کہا کہ نظام کی اصلاح کی بات کرنے والوں نے کہا الیکٹیبلز مجبوری ہیں، الیکٹیبلز آپ کی مجبوری ہیں تو اتنا ہنگامہ کیوں کیا گیا، ہر ایک کے قریب عوام کی اہمیت مچھر سے بھی کم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 1985میں 53فیصد سے زیادہ لوگوں نے ووٹ نہیں ڈالے اور 2013 میں 59 فیصد لوگوں نے بھی ووٹ نہیں ڈالےتھے، جنوری2012میں نظام میں اصلاحات کیلئے پہلا دھرنا دیا، دھرنے میں آرٹیکل 62 ،63 سے متعلق قوم کو آگاہی دی۔

طاہر القادری نے کہا کہ 2014 میں احتساب اور انقلابی اصلاحات کے لئے دھرنا دیا، جدوجہد کے دوران ماڈل ٹاؤن میں 14 لوگوں کی قربانی دی، ہماری جدوجہد کا مقصد ملک میں انتخابی اصلاحات تھا، انتخابی اصلاحات کیلئے کمیٹی بنی، جس میں تمام جماعتیں شامل تھیں، انتخابی اصلاحات کے حقائق کھلے تو وہ اور بھی ناقص تھے۔

سربراہ پاکستان عوامی تحریک کا کہنا تھا کہ ختم نبوتﷺ کے اقرار سمیت آرٹیکل 62،63 کوبھی نکال دیا گیا، آرٹیکل 62،63 کی ترمیمات انتخابی اصلاحات سےہی نکال دی گئیں، احتساب کے نام پر ڈھائی سال میں کیا کیا نہیں ہوا، کرپشن ہوائی جہاز پر ہورہی ہے، احتساب بیل گاڑی پر سفرکررہا ہے، کرپشن کے کیسوں میں آج تک کسی ایک شخص کو بھی سزا نہیں ہوئی۔

انھوں نے مزید کہا کہ قومی و صوبائی اسمبلی کی 21 ہزار درخواستیں جمع کرائی گئیں، متعدد درخواست گزاروں پر اغوا، کرپشن کے مقدمات ہیں، یہ لوگ الیکشن لڑنے کے لئے کوالیفائی کرکے جارہے ہیں، ایسے کاغذات منظور کرنے تھے تو چندسال شور کیوں برپا کیا گیا، الیکشن کے بعد پھر جرائم پیشہ افراد پارلیمنٹ میں بیٹھے نظر آئیں گے۔

طاہر القادری کا کہنا تھا کہ آئین سےآئین کی روح نکال لی گئی ہے، پھر ان لوگوں کو لایا جارہا ہے، جنہیں ڈھائی سال تک برا بھلا کہا گیا، چیف جسٹس نے کہا تھا ماڈل ٹاؤن واقعے کا 15دن میں فیصلہ سنایا جائے، سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ابھی تک تاریخ بھی نہیں لگی، اصغرخان کیس کا کیا بنا،سب قانون کے شکنجے سے باہر ہیں۔

پی اے ٹی کے سربراہ نے کہا کہ ہماری جدوجہد اصولوں کے لئے جاری رہےگی، الیکشن کے بعد ملک میں مایوسی پھیلے گی قوم کو آگاہ کر رہا ہوں، کسی سیاستدان پر اثر ہو نہ ہو لوگوں کے دل کی آواز ہوں ، سیاست میں ہر رہنما کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں، جب بائیکاٹ کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس کا غلط مقصد لیا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *