“آمدن اثاثے اور ٹیکس” تحریر طاہر ملک

آمدن اثاثے اور ٹیکس

تحریر طاہر ملک

جب سے سپریم کورٹ نے کاغذات نامزدگی کے ساتھ بیان حلفی جمع کروانے کی شرط عائد کی ھے تب سے دلچسپ انکشافات کا سلسلہ جاری ھے اب سمجھ میں آیا کہ تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے پرانے کاغذات نامزدگی کو قانون میں ترمیم کرکے ختم کیوں کیا اور الیکشن کمیشن نے حکومتی دباؤ میں سیاستدانوں کے گوشوارے اپنی ویب سائٹ سے کیوں ھٹا دئیے کروڑوں اربوں روپے کے اثاثوں کے مالک ہہ سیاستدان ذاتی گاڑی سے محروم ہیں بیٹا باپ سے امیر ھے اور بیوی خاوند سے زیادہ اثاثے رکھتی ھے ۔کروڑوں روپے کی جائیداد کو لاکھوں روپے کی مالیت کے ساتھ ظاہر کیا گیا ھے پڑوسی ملک بھارت میں یہ قانون ھے کہ اگر زمین کی قیمت کم ظاہر کی جائے تو حکومت اس سے دگنی قیمت پر خرید لیتی ھے ۔ اس کے علاؤہ یہ لوگ بہت سی بے نامی جائیدادوں کے مالک ہیں ۔سال میں متعدد بار بیرون ملک سفر کرتے ھیں قیمتی گاڑیاں استعمال کرتے ھیں بڑے بڑے محلات میں رھتے ھیں لیکن آج تک ٹیکس نہیں دیا ۔این ٹی این نمبر سے مراد نیشنل ٹیکس نمبر ھے جو ٹیکس ادا کرنے والے کو جاری کیا جاتا ھے چکوال سے قاف لیگ کے راھنما حفظ یاسر عمار ہر سال لاکھوں روپے خرچ کرکے رمضان کے آخری عشرے میں عمرہ ادا کرنے سعودی عرب جاتے ہیں انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی میں اس کے اخراجات ساڑھے پانچ لاکھ بتائے ھیں لیکن انہوں نے آج تک ٹیکس ادا نہیں کیا گزشتہ روز بحریہ ٹاؤن کے کیس کی سماعت کے دوران ملک ریاض سے جب بحریہ ٹاؤن کی ٹیکس تفصیل دریافت کی گئی تو انہوں نے بحریہ ٹاؤن میں زیر تعمیر مساجد اور غریبوں کے لئے مفت دستر خوان کا تزکرہ کیا صدقہ خیرات دینا ٹیکس کا نعم البدل نہیں ریاست حاصل کئے گئے ٹیکس سے ترقیاتی کام مکمل کرتی ھے ٹیکس کے نفاذ سے امیروں کے ھاتھوں ارتکاز دولت کو روکتی ھے امیر اور غریب کے فرق کو مٹاتی ھے جو ریاست طاقتور اشرافیہ سے ٹیکس وصول کرنے کی سکت نہ رکھتی ہو وہ کمزور ریاست ھوتی ھے ۔مسلم لیگ ن کو چھوڑ کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والے سابق ضلع ناظم اور صوبائی وزیر سردار غلام عباس کروڑوں روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں لیکن ان کے پاس این ٹی این نمبر ھی نہیں آج تک انہیں ٹیکس ادا کرنے کی ضرورت نہ محسوس نہ ھوئی امریکہ کی تاریخ میں ایک وقت ایسا آیا جب عوام نے یہ مطالبہ کیا کہ ٹیکس کے بغیر کوئی نمائندہ نمائندگی کا اھل نہیں تو اس اقدام سے امریکہ میں ٹیکس کلچر کا فروغ ھوا جو عوامی نمائندے ریاست کو ٹیکس دینے کو تیار نہیں وہ عوام کو کیا دیں گے اور حقیقی تبدیلی تب آئے گی جب کروڑ پتی ارب پتی سرمایہ داروں جاگیرداروں کے مقابلے میں مزدور اور کسان کی اسمبلی میں نمائندگی ہوگی

         طاہر ملک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *