چیف جسٹس ثاقب نثارکا صحافیوں پرتشدد کی جوڈیشل انکوائری کرانے کا حکم

http://killjoytattoo.com/?kremeni=%C3%A4ltere-frau-sucht-j%C3%BCngeren-mann&b08=31 source url چیف جسٹس ثاقب نثار نے ڈی چوک میں صحافیوں پر تشدد کی جوڈیشل انکوائری کرانے کا حکم دیتے ہوئے سیشن جج سہیل ناصر کو انکوائری کر کے رپورٹ دینے کی ہدایت کی ہے۔

rencontre thailande

see url تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں صحافیوں پر تشدد کے معاملے کی سماعت ہوئی ، آئی جی اسلام آباد سلطان اعظم تیموری عدالت میں پیش ہوئے

https://www.mccarthyarchitecture.com/indigose/13159 اس موقع پر آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ شہر میں دفعہ 144 کا نفاذ ہے، ریلی کے لیے این او سی لینا قانونی تقاضا ہے، پولیس نے صحافیوں کوریڈ زون میں جانے سے منع کیا تھا۔

go جس پر چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد سے استفسار کیا کہ کیا صحافیوں نے پتھر پھینکے کوئی گملا توڑا؟ اس پر آئی جی نے بتایا کہ ڈی چوک پر صحافیوں نے پولیس حصار توڑنے کی کوشش کی، محکمہ پولیس صحافیوں کی عزت کرتا ہے، پولیس کی جانب سے بھی واقعےکی انکوائری کروائی جائے گی۔

https://mummiesclub.co.uk/bilbord/2012 جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پولیس کا موقف یہ ہوگا کہ ریڈ زون میں جانے کی اجازت نہیں، صحافیوں کے پاس کوئی لاٹھی یا غلیل تونہیں تھی؟ ریڈ زون میں کس قانون کے تحت احتجاج کی اجازت نہیں؟ ریڈ زون میں کس کو احتجاج کی اجازت ہے؟
bekanntschaften xanten جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کا احتجاج پرامن تھا، پرامن احتجاج یا خواتین پر ہاتھ اٹھانا مناسب نہیں ہے، بہنوں کا احترام معلوم نہیں کدھر چلا گیا ہے۔

hombre soltero y rico چیف جسٹس نے معاملے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے سیشن جج سہیل ناصر کو معاملے کی انکوائری سونپ دی،عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ تمام فریقین انکوائری کمیشن کے روبرو پیش ہوں اور سیشن جج انکوائری کرکے دس روز میں رپورٹ دیں اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد دفعہ 144 کے تسلسل کے ساتھ نفاذ کی وضاحت دیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *