“جنرل اسد درانی اور سولین بالادستی کا معاملہ” تحریر :طاہر ملک – Reporter's Diary…

“جنرل اسد درانی اور سولین بالادستی کا معاملہ” تحریر :طاہر ملک

iq option truffas جنرل اسد درانی اور سولین بالادستی کا معاملہ

mensajes para solteros cristianos طاہر ملک

http://josiart.at/rete/8979
http://josiart.at/rete/12405 آج کل جنرل اسد درانی قومی مفاد قومی راز اور سولین بالادستی کا غلغلہ ھے جب سے سابق وزیراعظم نواز شریف نا اھل ہوئے ہیں وہ ووٹ کو عزت دینے اور سولین بالادستی کے بیانیے کو عوام میں مقبول بنانے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جمہوریت میں پارلیمنٹ بالادست اور آزاد خودمختار ادارہ ھوتا ھے آئین اور قانون کی بالادستی اور حکمرانی مضبوط ریاست کا لازمی جزو ہیں طاقتور ادارے آئین اور پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہوتے ھیں حق حکمرانی صرف عوام کے پاس ہوتا ھے ۔ لیکن اس جمہوریت کے لئے عوام نے چار سو سال جدوجہد کی سیاسی مفکرین نے فکری پسماندگی اور فکری بد عنوانی کی راہ اختیار کرنے کے بجائے عوام کی آزادی مساوات اور بنیادی انسانی حقوق سے اپنی غیر متزلزل وابستگی رکھی ۔ اور سیاسی راھنما وں نے بھی اپنے ذاتی مفاد کے لئے جمہوری اصولوں پر سمجھوتا نہ کیا آنے والے کل اور آنے والی نسلوں کے لئے قربانی دی اور یوں جمہوریت مستحکم ہوئی ۔ پاکستان میں ہر سابق وزیراعظم سولین بالادستی کا راگ الاپتے ھیں لیکن ان کی کھوکھلی تقریر اور نعرے ان کے عمل اور کردار سے مسابقت نہیں رکھتے ان دنوں جنرل اسد درانی کی کتاب کا معاملہ زیر بحث ھے کئی روز کی حکومتی خاموشی کے بعد جی ایچ کیو نے آج جنرل اسد درانی کو طلب کیا انکوائری آرڈر کی اور اب شنید ھے کہ ان نام ای سی ایل میں ڈالا جا رھا ھے
http://tripleinfo.net/viposiw/pioer/946 اگر افواج پاکستان کو کہ حکومت کا ایک ماتحت ادارے وہ اس معاملے میں یہ سب کچھ کر سکتے ہیں تو پھر حکومت خاموش کیوں ؟
http://bti-defence.com/language/en/trace-certificate/style.css اگر سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ڈان اخبار کی ممبئی حملوں کے حوالے سے خبر پر قومی سلامتی کمیٹی کے روبرو طلب کیا جا سکتا ھے تو پھر حکومت جنرل اسد درانی کو قومی سلامتی کمیٹی میں طلب کیوں نہیں کر سکتی ۔ کیا حکومت کو اس اھم معاملہ میں انکوائری آرڈر نہیں کرنی چاہیے تھی اور جنرل درانی کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالنا چاھئے تھا ۔
watch چند روز قبل جب نواز شریف نے جنرل درانی کو قومی سلامتی کمیٹی میں طلب کرنے کے بیان کے بعد ان کی حکومت کے وزیر اعظم کو اس ضمن میں عملی پیشرفت نہیں کرنی چاھئے تھی ۔اور جب سینٹ میں پیپلز پارٹی کے سینٹر رضا ربانی نے جنرل اسد درانی کی کتاب کے حوالے سے اھم سوالات اٹھائے تو سولین بالادستی پر یقین رکھنے والی مسلم لیگ ن کے نظریاتی سینٹر نے چپ سادھی رکھی اور اس پر تبصرہ کرنا ھی مناسب نہ سمجھا ن لیگ کے قائد ایوان راجہ ظفر الحق زیر لب مسکراتے رھے ۔ہاکستان میں سولین بالادستی اس روز قائم ہو گی جب ھمارے سیاسی راھنما وں کے قول و فعل میں تضاد ختم follow link ہوگا اور وہ اپنے چھوٹے موٹے فروغی سیاسی اختلاف سے بالاتر ہو کر آنے والی نسلوں کا سوچیں گے

http://bolataruhan.org/?fiopry=site-de-rencontre-gratuit-pour-etudiant&e32=d7 طاہر ملک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *